عمر عبداللہ کا مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحالی کا ایک بار پھرمطالبہ
سرینگر:بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں وکشمیرکی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک انہیں صرف زبانی یقین دہانیاں دی گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، عمر عبداللہ نے امرتسر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال کر دی جائے گی، لیکن تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے لداخ کی قیادت کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد میں حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر انحصار نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے تین مرحلوں کا عمل ترتیب دیا تھا — حد بندی، اسمبلی انتخابات اور ریاستی حیثیت کی بحالی۔ ان کے مطابق، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں بھی یہ یقین دہانی دی گئی تھی، لیکن حلقہ بندی اور انتخابات کے باوجود ریاستی حیثیت آج تک بحال نہیں کی گئی۔5اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹوریز جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا تھا۔








