بھارت امریکہ تجارتی معاہدے سے کشمیر میں سیب کی صنعت شدید متاثر ہوگی، یوسف تاریگامی

سری نگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے خطے کی سیب کی معیشت پر حالیہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے سے مقامی کاشتکار سخت متاثر ہونگے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد یوسف تاریگامی نے سری نگر میں ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ معاہدہ سے امریکی سیب، اخروٹ اور دیگر زرعی مصنوعات کی بھارتی منڈی میں ڈیوٹی فری داخلے کی راہ ہموار ہوگی جبکہ مقامی پیداوار کو امریکہ میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
تاریگامی نے کہا کہ یہ عملی طور پر امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے کشمیر کی پھلوں کی صنعت کو خاص طور پر نقصان پہنچے گا، جو لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے اور علاقے کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیب کے کاشتکاروں کو خاطر خواہ سرکاری سبسڈی ملتی ہے، جب کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے ساتھ ساتھ بھارتی ریاستوں ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے کاشتکار سڑکوں کی بندش جیسے لاجسٹک چیلنجوں کا سامنا کرنے کے علاوہ مہنگی کیڑے مار ادویات اور کھادوں سمیت زیادہ لاگت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔






