بھارت :چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج، پولیس نے ہزاروں افراد گرفتار کر لیے
ہم مودی کے جنونی رویے کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے، دپکے
نئی دہلی: بھارتی حکام نے کل ہفتے کے روز دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج سے قبل ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتیاطی حراستوں اور سفری پابندیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک طلبہ، کسانوں اور دلت تنظیموں کے ارکان سمیت کم از کم 10 ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابقکاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) اور طلبہ و سول سوسائٹی کی کئی تنظیموں نے کہا ہے کہ پولیس دہلی جانے والے لوگوں کو مظاہرے میں شرکت سے روکنے کے لیے حراست میں لے رہی ہے۔ انہوں نے کارکنوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کی بھی اطلاع دی اور کہا کہ رہائشیوں کو احتجاج میں شامل نہ ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
سی جے پی (سی جے پی)، بائیں بازو کے گروپوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی جانب سے بلائے گئے اس احتجاج کا مقصد انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی’ (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں پر کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنا اور اس متنازعہ عمل کو منسوخ کروانا ہے۔
کانگریس سمیت انڈیا اتحاد میں شامل جماعتیں ، طلبہ یونینز اور دیگر تنظیمیںپہلے ہی 2 اکتوبر سے دہلی میں احتجاج کر رہی ہیں۔
مہاراشٹر میں’آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن’ کی رہنما شراوانی بوا اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ پولیس نے انہیں بھوساول ریلوے اسٹیشن پر دہلی جانے سے روک دیا۔ طلبہ یونین نے یہ بھی بتایا کہ پونے سے دہلی جانے والی تقریباً 22 طالبات کو مدھیہ پردیش پولیس نے اٹارسی کے مقام پر حراست میں لے لیا۔
سی جے پی نے کہا کہ راجستھان پولیس نے اس کے قومی ترجمان دیپک بالیان پر تشدد کیا اور الور ضلع میں ان کے گھر سے انہیں حراست میں لے لیا۔ پارٹی نے مزید کہا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اس کے چار رضاکاروں کو بھوپال میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ دہلی جا رہے تھے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے دہلی کے ساو¿تھ ایکسٹینشن’ علاقے میں اس کے نارتھ زون کوآرڈینیٹر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا ہے۔
دہلی میں، ‘اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا’ کی رہنما آئشی گھوش نے کہا کہ پولیس لاٹھیاں لے کر تنظیم کے دفتر میں داخل ہوئی۔ انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں تنظیم کی قومی نائب صدر، ستیشا، کو گجرات میں نظر بند دکھایا گیا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے نے آج ایک بیان میں کہا کہ حراستوں اور پابندیوں کے باوجود مظاہرین جنتر منتر کی جانب مارچ جاری رکھیں گے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مخاطب ہوتے ہوئءکہا: "اگر آپ ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں یا گولی بھی مارنا چاہتے ہیں، تو ہم تیار ہیں۔ ہم آپ کے جنونی رویے کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔






