بھارت میں اقلیتوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ، انتہا پسند گروہوں کی کارروائیاں بے نقاب
مسلمانوں اور مسیحی برادری کو مختلف علاقوں میں ظلم و تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا

نئی دلی:بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیر اثر انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کو درپیش مشکلات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسلمانوں اور مسیحی برادری کو مختلف علاقوں میں ظلم و تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق ریاست اوڑیسہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک گرجا گھر میں داخل ہو کر مسیحی افرادکو عبادت سے روک دیا اور انہیں ہراساں کیا۔ انتہا پسند عناصر نے چرچ میں عبادت میں مصروف مسیحی خاندانوں کو گائوں سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دیں۔دی وائر کے مطابق واقعے کے اگلے روز ایک انتہا پسند گروہ نے حملہ کر کے مسیحی برادری کے دو نوجوانوں کو بدترین تشد د کر کے شدید زخمی کر دیا۔ چند ہفتے قبل ایک پادری پر بھی ہندو انتہاپسندوں نے تشدد کیاتھا اور اسے تذلیل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے وزیراعلیٰ کے ایک حالیہ بیان پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے، جسے بعض حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز قرار دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد بھارت میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور داخلی عدم استحکام کوباعث بن سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مستقبل میں علیحدگی پسند رجحانات کو بھی تقویت دے سکتی ہیں۔








