بھارت کے ویمن کمیشن کا کشمیری خاتون افسر سے بدسلوکی کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ
نئی دہلی : بھارت کے قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا ہے جس میںبھارتی انتظامی سروس (آئی اے ایس) کے ایک سینئر افسرکو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سرکاری جائزہ اجلاس کے دوران ایک جونیئر کشمیری خاتون افسرکے ساتھ زبانی طور پر بدسلوکی اور تذلیل کرتے اور دھمکیاں دیتے ہوئے د یکھا جاسکتاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن نے ایک آن لائن جائزہ اجلاس کے دوران جموں و کشمیر انتظامی سروس (جے کے اے ایس) کی افسر بینش وانی کے خلاف توہین آمیز اور نازیبا زبان استعمال کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں رنجن کو بینش وانی کو معطل کرنے اور انہیں اپنا مو¿قف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بھارتی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن وجے یا راہتکر نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر ویڈیو کی تصدیق، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں مناسب تادیبی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ویڈیو میں رنجن کو بینش وانی سے توہین آمیز اور دھمکی آمیز انداز میں بات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کمیشن نے خاتون افسر کو تحفظ اور معاونت فراہم کرنے کے علاوہ کام کی جگہ پر ہراسانی، انتقامی کارروائیوں اور پیشہ ورانہ زندگی میں نقصان پہنچانے جیسے اقدامات سے بچاو¿ کے لیے حفاظتی انتظامات کا بھی مطالبہ کیا۔
خواتین کمیشن نے چیف سیکریٹری سے سات روز کے اندر کارروائی سے متعلق رپورٹ (اے ٹی آر) طلب کی ہے۔کام کی جگہ پر عزت اور احترام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ ہر خاتون افسر محفوظ اور باوقار ماحول میں کام کرنے کی حق دار ہے، جبکہ اختیارات کا ناجائز استعمال اور کام کی جگہ پر تذلیل جیسے معاملات کو سنجیدگی سے نمٹا جانا چاہیے۔
اس واقعے پر کشمیر بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی رہنماو¿ں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بینش وانی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے رنجن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے نے مقبوضہ علاقے میں تعینات سینئر بھارتی حکام کی جانب سے کشمیری انتظامی افسران کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
امورکشمیر پر نظر رکھنے والے مبصرین نے اس واقعے کو بھارتی حکام کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ نوآبادیاتی طرز کے سلوک کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان واقعات کو اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ جوڑا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے ہندوتوا کے ایجنڈے سے ہم آہنگ حکام کو مقامی افسران کو ہراساں کرنے اور علاقے میں اپنے فرقہ وارانہ اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بااختیار بنایا ہے۔







