بھارتی کسانوں کا 23 اکتوبر کو ایس آئی آرکے خلاف دہلی کی طرف مارچ کا اعلان
ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ
نئی دہلی:بھارت میں ”سنیکت کسان مورچہ“ کے بینر تلے مختلف کسان تنظیموں نے23 اکتوبر کو دہلی کی طرف مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایس آئی آر میںبے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس مطالبے کے حق میں کسان بھارت بھر کے تمام ضلع، تحصیل اور بلاک ہیڈکوارٹروں پر بھی بیک وقت مظاہرے کریں گے۔یہ اعلان جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنیکت کسان مورچہ کے سینئر رہنما اور آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کے صدر اشوک دھولے نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر کے آس پاس مظاہروں پرلگی پابندیوں کے باوجود کسان بڑی تحریک کے لیے تیار ہیں۔
دی ہندو کے مطابق دھولے نے کہاکہ ایس آئی آر کے خلاف یہ سب سے بڑی جدوجہد میں سے ایک ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان جبر سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔دھولے کے مطابق اس مظاہرے میں طلبہ، نوجوان، خواتین، شہری و سماجی تنظیمیں اور ٹریڈ یونینوں کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔
اشوک دھولے نے بتایا کہ سنیکت کسان مورچہ نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت میں 26 نومبر سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کئی آزاد تجارتی معاہدے اور بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ بھارتی کسانوں کو بھاری سرکاری سبسڈی پانےوالی کارپوریٹ زراعت اور اس کی پیداوار کے مقابل لا کھڑا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ درآمدی محصولات کے بغیر غیر ملکی زرعی مصنوعات کی بھارتمیں آمد سے گھریلو منڈی میں قیمتیں گر سکتی ہیں جس سے کسان، ڈیری مصنوعات تیار کرنے والے، باغبانی کرنے والے، ماہی گیر اور ماہی گیری کی صنعت سے منسلک مزدور متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے معاہدے بھارتی کسانوں اور دیہی غریبوں کے روزگار اور معاش کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں اور ملک کی زراعت کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔






