بھارت

نئی دلی کی عدالت نے سلی ڈیلز اور بلی بائی ایپ کے مرکزی ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا

نئی دلی 29مارچ (کے ایم ایس)
نئی دلی کی ایک عدالت نے سلی ڈیلز اور بلی بائی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والے دو مرکزی ملزمان اومکاریشور ٹھاکر اور نیرج بشنوئی کو ضمانت پر رہاکردیاہے۔
چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نئی دلی کی عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہاکہ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے، جبکہ ایف ایس ایل کے نتائج آنا باقی ہیں۔ عدالت کا خیال ہے کہ مقدمہ جس مرحلے پر ہے اس پر بھی ملزم حقائق سے چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکے گا۔ یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ ملزمان نے پہلی بار جرم کیا ہے اور انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھنا مناسب نہیں ،لہذا دونوں ملزمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے تاہم ان پرکئی شرائط بھی لاگو ہوں گی۔دلی پولیس کے اسپیشل سیل، انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز اور ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزمین کے خلاف شواہد پر انحصار کیا تھا اور تفتیش میں کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ عدالت نے تاکید کی کہ اس ضمانت کے دوران کوئی بھی ملزم ملک سے باہر نہیں جائے گا اور جب بھی عدالت کی جانب سے سماعت کے لیے بلایا جائے توانہیں فوری پیش ہونا ہوگا۔ اس کے علاوہ تفتیشی افسر کو اپنی لوکیشن کی تفصیلات دینا ہوں گی، فون کو مسلسل آن رکھنا ہو گا اور کسی متاثرہ شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔مسلم خواتین کو نیلامی کیلئے آئن لائن پیش کرنے والی ایپ بلی بائی کیس میں نیرج بشنوئی مرکزی ملزم ہے جبکہ اومکاریشور سلی ڈیلز کا پروڈیوسر ہے۔
واضح رہے کہ سلی ڈیل ایپ بنانے والے اومکاریشور نے اسپیشل سیل کے سامنے کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے تھے۔ اس نے بتایا تھا کہ اس ایپ پر بولی لگانے کے لیے ایسی مسلم خواتین کی تصویریں پوسٹ کی گئی تھیں جو ٹویٹر پر ہندوئوں اور مندروں کے خلاف تبصرہ کرتی تھیں۔ وہ ٹویٹر پر ان خواتین کو تلاش کرتا تھا اور ان کی تصویریں سلی ڈیل ایپ پر بولی لگانے کے لیے پوسٹ کرتا تھا۔ بلی بائی نامی ایپ پربھی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈ کر کے انہیں فروخت کیلئے پیش کیاگیاتھا ۔ان خواتین میں معروف اداکارہ شبانہ اعظمی ،نئی دلی ہائی کورٹ کے ایک جج کی اہلیہ، متعدد خواتین صحافی، سماجی کارکن اور سیاست دان شامل ہیں۔

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button