جموں

جموں کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے

جموں 18 جون (کے ایم ایس)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لوگوں نے جموں خطے کے ادھم پور ضلع میں لڑکیوں کے ہائی اسکول اور ایک مندر کے قریب شراب کی دکان کھولنے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین نے جگانو میں گرلز ہائی سکول اور مندر کے قریب شراب کی دکانیں کھولنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف بھارتی حکومت منشیات کے خاتمے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف انتظامیہ کی طرف سے سکولوں اور مذہبی مقامات کے قریب شراب کی دکانیں کھولی جارہی ہیں۔
دریں اثنا، کانگریس پارٹی کے کئی سینئر رہنماو¿ں اور کارکنوں کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ پارٹی قیادت خاص طور پر راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی حکومت کی انتقامی پالیسیوں کے خلاف جموں میں پریس کلب کے قریب خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے مودی حکومت پر کانگریس پارٹی کے خلاف سیاسی انتقام میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت حزب اختلاف کی آواز کو دبانے کے لی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) جیسی مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔
پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو لیفٹیننٹ گورنر کی سرکاری رہائش گاہ راج بھون کی طرف بڑھنے سے روک دیا اور انہیں حراست میں لے کرڈسٹرکٹ پولیس لائنز منتقل کر دیا۔علاوہ ازیںکئی نوجوانوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ جموں کے علاقے میں سڑکوں پر نکلے اور بھارتی حکومت کی جانب سے نئی شروع کی گئی فوجی بھرتی کی اسکیم”اگنی پتھ“ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ہائی ویز کو بلاک کرنے کی کوشش کی۔ نوجوانوںنے جموں، کٹھوعہ اور راجوری اضلاع میں احتجاج کیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button