بھارتی فوجیوں نے ماہ جنوری میں11 کشمیری شہید کیے
نوجوان کی پراسرار موت پر اہلخانہ کا سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں گزشتہ ماہ جنوری میں 6 کم عمر بچوں سمیت 11 کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان میں سے آٹھ ضلع راجوری کے گائوں بدھل میں شہیدہوئے جہاں بھارتی فوجیوں نے پینے کے پانی میں زہریلا مادہ شامل کیا تھا۔ زہر آلود پانی پینے سے شہید ہونے والوں میں بیشتر بچے جبکہ ایک عمر رسیدہ جوڑا بھی شامل ہے۔ بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں نے اس عرصے کے دوران 37 کشمیریوںکو گرفتار کیا، جن میں زیادہ تر سیاسی کارکن، نوجوان اور طلباء شامل تھے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں سے بیشتر کے خلاف کالے قوانین” پبلک سیفٹی ایکٹ اور” یو اے پی اے” کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
دریں اثنا ایک مقتول نوجوان عمر یاسین کے اہلخانہ اور رشتہ داروں نے آج سرینگرکے علاقے نوگام میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے عمر یاسین کے قتل کی مکمل اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر”ہمیں انصاف دو” جیسے نعرے درج تھے۔ عمرسرینگر سے جموں جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا اور بعد ازاں کی اسکی لاش رام بن کے علاقے ڈگڈول میں ایک کھائی سے پر اسرار طور پر برآمد ہوئی تھی۔
ادھر بھارتی پولیس نے یکم فروری کوکٹھوعہ میںکالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت تین افراد کو گرفتارکرکے جموں، راجوری اور ادھم پور کی جیلوں میں منتقل کردیا۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک دیر پا اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے ہندوتوا پر مبنی مودی حکومت کے نوآبادیاتی ایجنڈے، ریاستی سرپرستی میں مظالم اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نافذ کالے قوانین کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا۔ حریت ترجمان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں دیر پا امن وسلامتی ہرگز ممکن نہیں اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔







