سابق بھارتی سفارتکارکا وزارت خارجہ کے عملے کا جنسی تشدد اور قتل میں ملوث ہونے کا انکشاف

نئی دہلی:بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک سابق اہلکار نے جنسی تشدد، قتل اور مجرموں کی ادارہ جاتی پشت پناہی میں بھارتی سفارت کاروں کے ملوث ہونے کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بیان کیے گئے انکشافات نے بھارت کے سفارتی حلقوں میں استثنیٰ کے بڑھتے ہوئے کلچر کو بے نقاب کیا ہے جس سے عالمی سطح پر ملک کی اخلاقی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔سابق اہلکار نے ایک دردناک کیس کا حوالہ دیا جس میں بنگلہ دیش میں بھارتی ہائی کمیشن کے تین ملازمین نے ایک نابالغ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کی لاش کو ایک سرکاری سفارتی گاڑی میں باہر پھینک دیا گیا تھا جس کا مقدمہ اب بنگلہ دیش میں زیر سماعت ہے۔ اس واقعے سے بھارت کی منافقت واضح ہوتی ہے جو اپنے مجرموں کی پردہ پوشی کرکے دنیا کو انسانی حقوق پر لیکچر دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی سفارت کار بیرون ملک اس طرح کے گھنائونے جرائم کا ارتکاب کر سکتے ہیں تو مقبوضہ جموں و کشمیر جیسے متنازعہ خطوں میں صورتحال اس سے بھی بد تر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے سانحے اور آسیہ اور نیلوفر کے کیس کو اس کا واضح ثبوت قراردیا۔ ان کا استدلال ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے بھارتی دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہو جاتے ہیں جب طاقت کا استعمال انصاف کو دبانے اور مجرموں کو بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔








