IndoPakWarپاکستان

بھارت فرضی خطرات گھڑ کر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے اوراپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے

اسلام آباد:بھارت گولڈن ٹیمپل پر پاکستان کے حملے کا جعلی بیانیہ گھڑ کر پنجاب میں آکاش ایئر ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کا جواز پیدا کررہاہے تاکہ اپنی داخلی ناکامیوں سے عالمی توجہ ہٹائی جائے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفاعی ماہرین اورسیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے عالمی تنقید سے بچنے اور داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مذہبی مقامات بالخصوص گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا تاکہ پنجاب میں فوجی تنصیبات کو جائز قرار دیا جا سکے۔8مئی 2025کو پاکستان نے بھارت کے خودساختہ”فالس فلیگ آپریشن” کا پردہ چاک کیاجب اس نے بھارت کے اندرامرتسر میں پانچ گردواروں اورآدم پور میں ایک مقام سمیت چھ حملوں کو بے نقاب کیا اوران حملوں اوربھارتی جارحیت کے حقائق بیان کئے۔بھارتی فوج نے یہ دعوی کہ پاکستان نے گولڈن ٹیمپل کی جانب ڈرونز اور میزائل داغے کسی آزاد تصدیق کے بغیر کیا اور یہ بھارتی سرزمین پر بڑھتے داخلی انتشار سے توجہ ہٹانے کوشش ہے۔ بھارت پاکستان پر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتا ہے جبکہ خود انہی مقامات پر سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی روز جب بھارت نے دعوی کیا کہ اس نے گولڈن ٹیمپل کو بچایا، ایک شخص نے لوہے کی راڈ سے زائرین پر حملہ کر دیا جو کسی بیرونی خطرے سے متعلق نہ تھا بلکہ یہ بھارت کی اندرونی سلامتی کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔میجر جنرل کارتک سی ششادری کے یہ دعویٰ کہ بھارت نے آکاش اور آکاشتیر سسٹمز کے ذریعے پاکستانی میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے، کسی بھی قسم کے شواہد یا آزاد تصدیق کے بغیر محض سیاسی مقاصد کے لئے کیاگیا۔بھارتی فوج نے اب تک کوئی ریڈار ڈیٹا، ملبہ، یا ویڈیو ثبوت فراہم نہیں کیا جو ان دعوئوں کو ثابت کر سکے۔ابھی تک کسی معتبر بین الاقوامی ادارے نے 7 سے 10مئی 2025کے دوران بھارت پر خاص کر گولڈن ٹیمپل یا آپریشن سندور کے حوالے سے کسی پاکستانی میزائل یا ڈرون حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت نے بحران کے بعد اپنی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے ایک افسانہ تخلیق کرنے کی کوشش کی ہو۔بھارت کی جانب سے پاکستان پر عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کا الزام اس پس منظر میں سمجھنا چاہیے کہ خود بھارت میں سکھ، مسلمان اور عیسائی سمیت اقلیتی برادریاں انتہاپسند گروہوں اور ریاستی سرپرستی میں”بلڈوزر سیاست”کا نشانہ بن رہی ہیں۔بھارت اقلیتوں کا تحفظ نہیں کر رہا بلکہ ان کے مقدس مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے بطور ڈھال اور ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ قوم پرستی کو ہوا دی جا سکے۔بھارت کا بیانیہ دفاع کے حوالے سے نہیں بلکہ توجہ ہٹانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ وہ اپنی جارحیت کوجائز ردِعمل بنا کر پیش کر رہا ہے، فرضی خطرات پیش کرکے اندرونی حمایت حاصل کرنے اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button