"وہ چراغ جو ہر آندھی میں جلتا رہا”
سعد اللہ تانترے: ایک مردِ قلندر، ایک تحریک، ایک جہد مسلسل کا نام
آج جب بھارت کی فسطائی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جماعت اسلامی کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈا مہم چلا رہی ہے، تو یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ جس تحریک نے دعوت کے میدانوں سے لے کر جہاد کے لہو رنگ محاذوں تک حق کا علم بلند رکھا، اس کی سچائی نے باطل کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ یہی تو وہ تحریک اسلامی ہے، جس کے پرچم تلے حکیم غلام نبی، غلام احمد احرار، شہید عبدالرشید اصلاحی، شہید مشتاق احمد گلکار، غلام نبی فرید آبادی اور درجنوں دیگر مشعل برداروں نے کفر و طاغوت کو للکارا۔ اِنہی مردانِ حق میں ایک درویش منش، نڈر اور جری قائد کا نام سعد اللہ تانترے ہے۔
ڈوڈہ کے قصبہ گھٹ (فرقان آباد) سے تعلق رکھنے والے سعد اللہ تانترے تحریک اسلامی کے وہ کہنہ مشق کارکن تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللّٰہ کے دین کے لیے وقف کر دیا۔ وہ جرات و عزیمت کے استعارہ تھے۔ ان کا طرز زندگی تحریک اسلامی کے ہر سپاہی کے لیے مشعل راہ ہے۔سابق امیر جماعت اسلامی صوبہ جموں، سعد اللہ تانترے کی شخصیت تحریک اسلامی اور تحریکِ آزادی میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو وہ گراں قدر دعوتی خدمات ہیں جو انہوں نے بطور امیر جماعت صوبہ جموں سرانجام دیں۔ ان خدمات نے نہ صرف جماعت اسلامی کو اِس خطے میں مضبوط بنیادیں فراہم کیں بلکہ ایک ایسی فکری اور عملی تحریک کو بھی فروغ دیا جو آج بھی صوبہ جموں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
1965ئمیں سعد اللہ تانترے نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں صالحیت اور صلاحیت کی بنا پر صوبہ جموں کے امیر مقرر ہوئے، تو ان کا سب سے اہم ہدف "مقصدیت کی تاریکیوں میں بھٹکنے والے انسانوں کو راہِ حق پر لانا” تھا۔ وہ اِس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ اِس پرفتن دور میں جہاں مادیت اور بے سمتی کا غلبہ ہے، وہاں جماعت اسلامی ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو مسلمانوں کو غلبہ اسلام کے لئے ایک حقیقی پلیٹ فارم فراہم کرسکتا ہے۔ بطور امیر، انہوں نے اِس پیغام کو عام کرنے کے لیے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا۔ وہ نہ صرف جماعتی اجتماعات اور دروس میں پرجوش خطابات کرتے تھے، بلکہ ان کی دعوتی سرگرمیاں ان تک محدود نہیں تھیں جہاں جماعت کا باقاعدہ نظام موجود تھا۔ وہ گلی گلی، قریہ قریہ اور حتیٰ کہ ” غیر مسلموں سے بھی براہ راست روابط” قائم کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ وہ ہر کسی کے دل میں گھر کر جاتی تھی اور انھیں جماعت اسلامی کے افکار کی طرف راغب کرتی تھی۔ ان کا دعوتی انداز انتہائی حکیمانہ اور شفقت آمیز تھا، جس سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ ہمیشہ اِس بات پر زور دیتے تھے کہ انتشار کے اِس دور میں مولانا مودودی رحمہ اللہ کی فکر ہی امّت کو راہِ نجات دکھا سکتی ہے۔
ان کی دعوتی خدمات کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے سرکاری ملازمت بھی کی تھی، مگر جب نظم جماعت کی جانب سے حکم ملا کہ انھیں تحریکِ اسلامی کو زیادہ وقت دینا ہے، تو انہوں نے بلا کسی ہچکچاہٹ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ یہ ان کی” تنظیمی اطاعت اور دعوتی کمٹمنٹ ” کی انتہا تھی کہ انہوں نے اپنی دنیاوی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود کو مکمل طور پر تحریکِ اسلامی کے لئے وقف کر دیا۔ آخر دم تک وہ جماعت اسلامی کے ایک سپاہی کی حیثیت سے دعوتی کام میں مصروف رہے۔
1979ئ میں جب جماعت اسلامی پر قیامت ڈھائی گئی، لائبریریاں جلائی گئیں، اسکول مسمار کیے گئے، حتیٰ کہ جماعت سے وابستہ بزرگوں کی داڑھیاں بھی نوچی گئیں، تب بھی سعد اللہ تانترے اپنے رفقاء کے ساتھ دعوتی میدان میں ڈٹے رہے۔ ظلم کا سامنا کرتے ہوئے نہ وہ تھکے، نہ جھکے۔
الیکشن کے ذریعے جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر تسلط کو دوام دینے کی سازش کی، تو جماعت اسلامی نے بندوق کے مقابلے میں صندوق کا راستہ اپنایا۔ گاندربل میں جب مرزا افضل بیگ کے مقابلے میں اشرف صحرائی? کو انتخابی میدان میں اتارا گیا، تو تانترے صاحب کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی گئی۔ اس دوران نیشنل کانفرنس کے غنڈوں نے ان پر حملہ کیا، ایک آنکھ شہید ہوگئی، مگر ان کے عزم کو کوئی آنچ نہ آئی۔ اس خوفناک صورتحال میں بھی سعد اللہ تانترے? نے بطور امیر صوبہ جموں دعوتی تسلسل کو برقرار رکھا۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو حوصلہ دیا اور انہیں جماعت اسلامی کے منشور کے مطابق اپنا دعوتی کام جاری رکھنے کی تلقین کی۔ یہ ان کی غیر متزلزل قیادت اور فکری مضبوطی کا ثبوت ہے کہ ایسے مشکل ترین حالات میں بھی وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔
سعد اللہ تانترے کی دعوتی خدمات کو بھارتی ریاست کے جبر کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انھیں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، لیکن جیل کی تاریک کوٹھڑیاں بھی ان کے دعوتی عزم کو متزلزل نہ کر سکیں۔ جیل میں بھی وہ دیگر قیدیوں اور ساتھیوں کے درمیان دعوتِ حق کا فریضہ انجام دیتے رہے اور انہیں قرآن و سنّت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے رہے۔ ان کی قید و بند کی زندگی درحقیقت ان کی دعوتی جدوجہد کا ایک حصّہ تھی جو ان کے کردار کی پختگی اور استقامت کو ظاہر کرتی ہے۔
سعد اللہ تانترےکی دعوتی خدمات کا ایک اور نمایاں پہلو ” تعلیمی اداروں کا قیام” تھا۔ وہ یہ بخوبی جانتے تھے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے فکری بنیادوں کا مضبوط ہونا اور آئندہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تربیت ناگزیر ہے۔ چنانچہ، بطور امیر انہوں نے صوبہ جموں میں جماعت اسلامی کے قائم کردہ ” فلاح عام ٹرسٹ ” کے زیرِ انتظام” درسگاہوں اور سکولوں کا ایک وسیع جال بچھایا۔ اِن درسگاہوں کا معیار سرکاری و غیر سرکاری سکولوں سے کہیں بہتر تھا، جس کا اعتراف مقامی غیر مسلم شہری بھی کرتے تھے۔ ان اداروں میں نہ صرف دینی تعلیم بلکہ عصری علوم پر بھی پوری توجہ دی جاتی تھی تاکہ ایک ایسی نسل تیار ہو جو دین و دنیا دونوں میدانوں میں قیادت کرسکے۔ یہ درسگاہیں محض تعلیمی ادارے نہیں تھے بلکہ دعوتی مراکز بھی تھے، جہاں طلبائ کو اسلامی نظریات اور تحریک کے مقاصد سے روشناس کرایا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے آبائی ضلع ڈوڈہ میں بہت سی درسگاہیں تعمیر کروائیں، جو آج بھی ان کے علمی اور دعوتی ذوق کی گواہی دیتی ہے۔
جب تحریکِ آزادی نے عسکریت کا روپ دھارا تو سعد اللہ تانترے نے نہ صرف عملی طور پر اس میں حصّہ لیا بلکہ بطور امیر جماعت صوبہ جموں، انہوں نے اس مرحلے پر بھی فکری رہنمائی کا فریضہ بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے مجاھدین کو قرآن و سنّت کی روشنی میں جہاد اور آزادی کے مقاصد سے آگاہ رکھا تاکہ ان کی جدوجہد صحیح اسلامی بنیادوں پر قائم رہے۔ ان کا یہ قول کہ "مسلمان ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار لے کر راہ جہاد پر نکلیں تو انھیں اپنا کھویا ہوا مقام اور وقار پانے سے کوئی نہیں روک سکتا” ان کے فکری و عملی توازن کا عکاس ہے۔ اپنے جواں سال بیٹے تنویر جلیل عرف سہیل فرقانی شہید? کو تحریک آزادی کے لیے پیش کیا۔ یہ وہی بیٹا تھا جو ان کی آنکھوں کا تارا اور سب کا پیارا تھا۔ جب شھادت کے بعد تعزیت پرکسی نے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھا، تو یہ مرد قلندر آبدیدہ ہو کر بولے: "میرا بیٹا میری آنکھوں کا نور تھا، مگر جب وہ اللّٰہ کے دین کے لیے شہید ہوا تو میرے آنسو بہے، مگر مجھے خوشی تھی کہ اس نے میری نہیں، تحریک اسلامی کی لاج رکھی۔” ایسے والدین نے واقعی قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کر دی۔ ان کے بیٹے تنویر جلیل عرف سہیل فرقانی شہید کی شہادت اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں کتنے سچے تھے۔
سعد اللہ تانترے کی دور رس بصیرت اور تحریکِ آزادی کے تئیں ان کی غیر متزلزل وابستگی کا ایک اہم اور تاریخی ثبوت 2001ئ میں "جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ ” کا قیام ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب جموں صوبہ سیاسی تنہائی کا شکار تھا اور یہاں کل جماعتی حریت کانفرنس جیسی کوئی مرکزی نمائندہ جماعت موجود نہ تھی۔ سیاسی محاذ پر ایک نمایاں اور تشویشناک خلا محسوس کیا جا رہا تھا، جو تحریکِ آزادی کے تسلسل اور ہمہ جہت مزاحمت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا تھا۔ سعد اللہ تانترے? نے اس خلا کو نہ صرف شدّت سے محسوس کیا بلکہ اس کے مضمرات کو بھی پوری سنجیدگی سے جانا۔ ان کے نزدیک تحریکِ آزادی صرف میدانِ عمل یا بندوق کی گونج کا نام نہ تھا، بلکہ اس کے لیے ایک متوازن اور ہم آہنگ سیاسی فکر و قیادت بھی ناگزیر تھی۔ وہ جانتے تھے کہ سیاسی محاذ پر مضبوط، مربوط اور باوقار نمائندگی کے بغیر کسی بھی قومی جدوجہد کی تکمیل ممکن نہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس محرومی کو دور کرنے کے لیے پہل کی اور جموں بھر میں موجود مختلف آزادی پسند عناصر کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
ان کی بے لوث قیادت، فکری تدبر اور حکیمانہ مزاج نے جلد ہی اپنے اثرات دکھائے۔ مختلف الخیال مگر ہم مقصد افراد اور جماعتیں ان کے گرد مجتمع ہو گئیں۔ انہی کی رہنمائی میں اس نئے اور ہمہ گیر سیاسی پلیٹ فارم کو "جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ” کا نام دیا گیا۔ یہ اتحاد جموں صوبے میں آزادی پسندوں کی ایک ایسی متحدہ آواز بنی، جس نے نہ صرف تحریک کے سیاسی خلا کو پر کیا بلکہ ایک منظّم اور باوقار سیاسی جدوجہد کی راہ بھی ہموار کی۔ اِس اقدام نے واضح کر دیا کہ سعد اللہ تانترے? محض ایک سرگرم کارکن یا عملی مجاہد نہ تھے، بلکہ وہ ایک صاحبِ بصیرت مدبر، درد مند رہنما اور ملتِ مظلوم کی نبض شناس شخصیت تھے، جو حالات کی ماہیت کو سمجھ کر بروقت اور دور رس فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ "جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ” کا قیام اس حقیقت کا ادراک ہے کہ وہ تحریکِ مزاحمت کے صرف فکری یا نظریاتی حامی نہ تھے، بلکہ اس کے عملی معماروں میں سے ایک تھے۔ یقیناً یہ اقدام جموں میں تحریکِ آزادی کی سیاسی جدوجہد کو ایک نئی سمت دینے، اسے موثر بنانے اور اس کے تئیں عوامی اعتماد بحال کرنے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعد اللہ تانترے? کا یہ کارنامہ آج بھی مزاحمت کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو نہ صرف ان کے فہمِ تحریک کا مظہر ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک نمونہ عمل ہے۔
سعد اللہ تانترے کی زندگی کا ایک اور اہم اور قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ جماعت اسلامی سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی جدوجہد کو نئے محاذ "جموں وکشمیر فریڈم موومنٹ” کے پلیٹ فارم سے جاری رکھا ہوا تھا۔ انھیں” قائد تحریک سیّد علی شاہ گیلانی رحمہ اللہ” کی 2003ئقائم کردہ ” تحریک حریت جموں و کشمیر” کے تاسیسی رکن اور سینئر وائس چیئرمین کے طور پر منتخب کیا گیا۔ یہ ان کے قد کاٹھ اور تحریکِ آزادی کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف تھا کہ انھیں تحریک کے ایک مرکزی عہدے پر فائز کیا گیا۔ تاہم، سعد اللہ تانترے? نے اپنی فکری گہرائی اور صوبہ جموں کے مخصوص سیاسی و مذہبی حالات کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے، سیّد علی شاہ گیلانی صاحب کو اِس بات پر قائل کیا کہ "جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ” کو تحریک حریت جموں و کشمیر میں مدغم کرنا صوبہ جموں کے لیے موزوں نہیں ہوگا۔ ان کا یہ موقف اس حقیقت پر مبنی تھا کہ جموں خطے کے سیاسی، سماجی اور مذہبی ڈھانچے کی اپنی الگ نوعیت ہے، اور وہاں کی جدوجہد کو ایک الگ پلیٹ فارم سے زیادہ موثر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ دونوں قائدین، سیّد علی شاہ گیلانی رحمہ اللہ اور سعد اللہ تانترے? نے ” باہمی مشاورت اور فکری ہم آہنگی” کے ساتھ فیصلہ کیا کہ وہ ” صوبہ جموں میں فریڈم موومنٹ کے نام سے ہی کام کریں گے، اِس کی موجودگی میں تحریکِ حریت جموں وکشمیر کا الگ سے کوئی ڈھانچہ قائم نہیں کیا جائے گا "۔ یہ ایک قابلِ تحسین مثال ہے کہ کس طرح تحریک کے بڑے رہنما اصولوں کی خاطر اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اتفاق رائے سے فیصلے کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں، سیّد علی شاہ گیلانی رحمہ اللہ نے سعد اللہ تانترے? صاحب کی زندگی میں صوبہ جموں میں اپنی پارٹی "تحریک حریت جموں و کشمیر” کا کوئی بھی یونٹ قائم نہیں کیا۔ یہ قدم سعد اللہ تانترے? کی دور اندیشی، ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور جموں و کشمیر کے ہر خطے کی صورتحال پر ان کی گہری بصیرت کا ثبوت ہے۔ یہ اِس بات کا بھی مظہر ہے کہ ان کے موقف کو سیّد علی شاہ گیلانی جیسے بڑے رہنما نے بھی مکمل احترام اور تائید کے ساتھ قبول کیا۔ سعد اللہ تانترےکی یہ حکمت عملی اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ وہ محض ایک جذباتی رہنما نہیں تھے، بلکہ ایک ‘مدبر اور معاملہ فہم شخصیت” تھے جو تحریک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
مئی 2007ء میں، جب تحریکِ آزادی کا ایک نمایاں ستارہ، سعد اللہ تانترے، اِس فانی دنیا سے رخصت ہوا تو یہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ایک عہد کا اختتام تھا۔ طویل علالت کے بعد 29 مئی کی شب ان کی وفات نے تحریکِ آزادی کے "دعوتی اور سیاسی محاذ” پر ایک ایسا ” گہرا اور ناقابلِ تلافی خلا” پیدا کر دیا جو آج بھی شدّت سے محسوس ہوتا ہے۔انا اللہ انا الہ راجعوں
سیّد صلاح الدین احمد نے سعد اللہ تانترے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ”جب کوئی عظیم المرتبت شخصیت دنیا سے رخصت ہوتی ہے، تو اس کا غم دلوں میں ایک خلش بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر اس کے نقوشِ حیات، خدماتِ جلیلہ اور فکری وراثت، ایک عہد کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ سعد اللہ تانترے? کی رحلت بھی ایسا ہی ایک لمح غم تھا۔ یہ لمحہ نہ صرف تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے، بلکہ جماعتِ اسلامی اور ملتِ مظلومہ کشمیر کے لیے بھی ایک ایسا دکھ بھرا موڑ تھا، جہاں ایک مخلص رہنما، جہدِ مسلسل کا پیکر، اور حکمت و اخلاص کا مجسمہ ہم سے جدا ہوگیا“۔ تانترے صاحب کی ساری زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ اس مردِ مجاہد اور مردِ قلندر کی جدائی تحریکِ اسلامی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس درویش منش انسان کی کس کس ادا کا تذکرہ کریں! انہوں نے اپنی پوری زندگی جموں و کشمیر کے عوام کو آزادی اور عزتِ نفس کا درس دیا۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی شخصیت میں روحانیت، تدبر، سادگی اور قیادت کا ایسا حسین امتزاج تھا جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ نہ صرف میدانِ عمل کے مجاہد تھے، بلکہ دلوں کے فاتح، فکر کے امین اور ایک نظریہ کے سچے ترجمان بھی
تھے۔ ان کا پورا سفر ایک پیغام تھا: قربانی، استقامت اور اللّٰہ کی رضا کے سوا کوئی اور منزل نہیں۔ ان کی قربانیاں اور ان کا اخلاص محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک مشعلِ راہ ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس کی تابانی میں چل کر ہی ملتِ مظلومہ کشمیر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتی ہے۔
سعد اللہ تانترے کی حیاتِ مستعار ایک نقشِ جاویداں ہے، جسے وقت کی گرد کبھی مٹا نہیں سکتی۔ ان کی یادیں آج بھی تحریکی کارکنوں کے دلوں کو گرماتی ہیں، ایمان کو تازہ کرتی ہیں، اور جذب? حریت کو جِلا بخشتی ہیں۔ وہ رخصت ہو گئے، مگر ان کا چراغ آج بھی جل رہا ہے.. اور اِن شاءاللہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔
یہ وہ چراغ تھا جو ہر آندھی میں جلتا رہا
تحریر: محمد اقبال بٹ








