راجوری میں پراسرار بیماری کے باعث35 افراداسپتال میں داخل

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری میں ایک پراسرار بیماری کی وجہ سے35افرادکو ہسپتال میں داخل کیاگیااور صحت کے حکام نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ بیماری کی ممکنہ وجہ پینے کا آلودہ پانی ہوسکتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 7دسمبر 2024سے رواں سال 19جنوری کے درمیان اسی ضلع کے علاقے بدھل میں تین خاندانوں کے 17افراد کی پراسرار طورپر موت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں نے بھارتی فوج پرالزام لگایاتھا کہ وہ گائوں کے پانی کے چشمے کو آلودہ کررہی ہے۔گائوں میںطبی ٹیم کی سربراہی کرنے والے ایک ڈاکٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ تحصیل منجکوٹ کے علاقے کوٹلی پران میں پینتیس افراد کو گزشتہ چند دنوں میں بیمار ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام مریضوں کی حالت مستحکم ہے۔ ان میں سے چار کو راجوری کے گورنمنٹ میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ایک ٹیم نے گائوں کا دورہ کیا ہے، پانی کے نمونے اکٹھے کیے اور انہیں جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ مریضوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ محکمہ صحت کے حکام کو شبہ ہے کہ بیماری کی وجہ آلودہ پانی ہے۔جی ایم سی راجوری کی ایک ٹیم نے تین مقامی کنوں سے پانی کے نمونے اکٹھے کیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے کنوئوں کو سیل کر دیا ہے۔ایک ڈاکٹر نے بتایاکہ علامات میں پیٹ درد، بخار، پانی کی کمی اور اسہال شامل ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر سے رواں سال جنوری تک ضلع کے علاقے بدھل میں50دنوں کے اندر ایک پراسرار بیماری کی وجہ سے 17افرادجاں بحق ہوگئے تھے جن میں 13بچے بھی شامل تھے۔







