ایران میں پھنسے کشمیری طلباءشدید مشکلات کا شکار
بھارتی حکومت طلباءکے انخلاءکیلئے کچھ نہیں کر رہی
سری نگر : ایران میں پھنسے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے طلباءشدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ طلباءمیں سے اکثر قم منتقل ہو گئے ہیں۔ طلباءناقص رہائش گاہوں میں 45 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ بھارتی حکومت ان کے فوری انخلاءکے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تہران سے 200 کلومیٹر دور قم منتقل ہونے والوں میں صائمہ نامی ایک طالبہ بھی ہے جس نے فون پر سری نگر کے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے مقابلے میں یہاں دھماکوں کی آواز نہیں ہے اور ماحول قدرے پرسکون ہے۔
صائمہ جنگ سے تباہ حال تہران کی ایک یونیورسٹی میں طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہے، جب کہ اس کا بھائی بھی وہاں کی ایک یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں اپنے بھائی کیساتھ ہوں اور یہاں سے انخلاءکا انتظار کر رہے ہیں۔
بہت سے طلبانے بتایا کہ وہ قم میں ناقص رہائش گاہوں میں 45 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں رہ رہے ہیں۔
محسن نامی ایک طالب علم نے فون پر اخبار کو بتایا کہ جس جگہ ہمیں رکھا گیا ہے وہاں ایئرکنڈیشن نہیں ہے اور بہت گرمی پڑ رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ قم تک پہنچنا آسان نہیں تھا ، ہم نے اصفہان سے یہاں تک ہر جگہ بمباری کی تباہی کے اثرات دیکھے ۔
ایران کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم بھارت بھر سے آنے والے طلباکے اہل خانہ کی پریشانی گزشتہ روز اس وقت مزید بڑھ گئی جب طلبہ کے ایک ہاسٹل میں بم دھماکے سے دو کشمیری طلبا زخمی ہوگئے۔






