پاکستان کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بچوں کے حقوق کی پامالی پر بھارت پر کڑی تنقید
اقوام متحدہ:
پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت پر کڑی تنقید کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی سیکنڈ سیکرٹری رابعہ اعجاز نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر مسخ شدہ بیانیے اور انکار کا سہارا لے رہا ہے۔ بھارت بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے اپنے غیر معمولی ریکارڈ کو بھول جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، صدمے اور جبر کے درمیان پروان چڑھنے والے کشمیری بچوں کا المیہ سب کو معلوم ہے اور اس حقیقت کو بھارت اپنے جھوٹے بیانیوںسے ہرگز چھپا نہیں سکتا۔رابعہ اعجاز نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو منظم طریقے سے دبانا بشمول ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت، اس کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں تھا اور نہ ہے، یہ بھارت کے جبری قبضے کے تحت ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات بشمول نقشے اور جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں، جن کی بھارت مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرے، کشمیریوں پر ظلم اور اقلیتوں پر ظلم و ستم بند کرے، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور دو طرفہ معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے پرامن حل کیلئے بامعنی مذاکرات میں شامل ہو۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت پاکستان اور دنیا بھرمیں دہشت گردی اور قتل و غارت گری کی سرپرستی کررہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کہا کہ بھارت نے ہمارے بچوں کو دہشت گرد حملوں کے دوران بے دردی سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔2014میں آرمی پبلک سکول کے قتل عام میں 130سے زائد معصوم بچوں کی جانیں گئیں۔ گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے خضدار میں سکول بس پر وحشیانہ حملے میں بے شمار معصوم بچوں کی جانیں گئیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔





