بھارت

بھارت میں مزدور دشمن اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف مزدور یونینوں کا 9جولائی کو ”بھارت بند ” اعلان

نئی دہلی:بھارت میں مزدور دشمن اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف مزدور یونینوں نے کل مکمل ہڑتال کا اعلان کیاہے جس کی وجہ سے بینکنگ، انشورنس، ڈاک، کان کنی ،تعمیرات اوردیگر شعبے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کسانوں اور دیہی مزدوروں نے بھی اس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔مزدور یونینوں نے 9جولائی کو ملک گیر ہڑتال ”بھارت بند ”کا اعلان کیا ہے جس میں 25کروڑ سے زائد کارکنان کی شرکت متوقع ہے۔ بھارتی ٹریڈ یونینز اور ان کے اتحادی اس ہڑتال کو حکومت کی مزدور مخالف، کسان مخالف اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف ایک جنگ قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کی ٹریڈ یونینز اور ان کی حلیف تنظیموں کے فورم نے تمام شعبوں کے کارکنان پر زور دیا ہے کہ وہ بند کو کامیابی سے ہم کنار کریں۔ رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں میں بند کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ٹریڈ یونینز کے مشترکہ فورم میں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس، انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس، ہند مزدور سبھا، سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز، آل انڈیا یونائیٹڈ ٹریڈ یونین سینٹر، ٹریڈ یونین کوآرڈینیشن سینٹر، سیلف ایمپلائیڈ ویمنز ایسوسی ایشن، آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز، لیبر پروگریسو فیڈریشن اور یونائیٹڈ ٹریڈ یونین کانگریس شامل ہیں جنہوںنے بھارت بند کی حمایت کی ہے۔ٹریڈ یونینز کا کہنا ہے کہ وہ پبلک سیکٹر کمپنیوں اور عوامی خدمات کی نجکاری، خدمات کی خارجی ذرائع سے تکمیل، کنٹریکٹرائزیشن اور عارضی کارکن کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک بیان میں فورم نے بتایا کہ اس نے گزشتہ سال وزیر محنت منسکھ منڈویہ کو مطالبات کا ایک چارٹر پیش کیا تھا لیکن حکومت اس سلسلے میں کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان مطالبات میں بے روزگاری کو حل کرنا، منظور شدہ آسامیوں کے تحت خالی جگہوں کو پر کرنا، مزید ملازمتیں پیدا کرنا، منریگا کے تحت کام کے دنوں اور معاوضے کی تعداد میں اضافہ کرنا اور شہری روزگار کیلئے اسی طرح کی قانون سازی شامل ہے۔یونینزنے حکومت پر کارکنان کے حقوق کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں سے سالانہ لیبر کانفرنس کا انعقاد نہیں کیا گیا ہے، جبکہ فیصلے کارکنان کے مفادات کے براہ راست خلاف ورزی میں لئے جا رہے ہیں۔ فورم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ضروری اشیا ء کی آسمان چھوتی قیمتیں، گرتی ہوئی اجرتیں اور تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر اخراجات میں کٹوتیوں نے عدم مساوات کو گہرا کیا ہے جو غریبوں، کم آمدنی والے طبقے اور یہاں تک کہ متوسط طبقے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یونینز نے حکومت پر مہاجر کارکنان کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کرنے والی ریاست بہار کی مثال پیش کی۔ ٹریڈ یونین کے لیڈران نے خبردار کیا کہ حکومت کے اقدامات کمزور طبقے سے شہریت چھیننے کی کوشش کے مترادف ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ اور زرعی مزدور یونینوں کے مشترکہ محاذ نے بھی 9جولائی کے بھارت بند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button