World

یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے دنیا بھر میں تقریبات کا انعقاد

اسلام آباد: یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں مختلف ممالک کے دارالحکومتوں میں پاکستانی مشنز اور سفارت خانوں نے سیمیناروں اوردیگرتقریبات کا انعقاد کیاجن میں پاکستانی اورکشمیری تارکین وطن نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان تقریبات کے دوران صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی دستاویزی فلمیں بھی دکھائی گئیں۔لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے5اگست 2019کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے یوم استحصال کشمیر منانے کیلئے سیمینار/ویبنار کا اہتمام کیا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔سیمینار میں لارڈ قربان حسین، لارڈ شفق محمد،یاسمین قریشی، لیاقت علی، خالد محمود، ڈاکٹر شیخ رمزی، ڈاکٹر ذوالفقار علی، امجد عباسی، شمیم شال، احمد قریشی، ریحانہ علی، ڈاکٹر عابدہ رفیق اور برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مہمان مقررین نے 6 سال قبل دفعہ370-Aکو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر منسوخ کرنے کے بھارتی حکومت کے اقدام کی مذمت کی۔ مقررین نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ انہوں نے تنازعہ جموں و کشمیر کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے کشمیریوں اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کشمیر کاز کی موثر وکالت کی جا سکے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی جس میں حریت رہنمائوں کی نظربندیاں، میڈیا کو دبانا، مواصلاتی بلیک آئوٹ، جبری گمشدگی، تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔سیمینار سے پہلے ہائی کمیشن نے ایک تصویری نمائش کا انعقاد کیا جس میں جموں وکشمیر میں بھارتی قابض افواج کے مظالم کے ثبوت پیش کئے گئے۔شرکا نے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔
متحدہ عرب امارات کے شہرابوظہبی میں پاکستانی سفارت خانے نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو اجاگر کرنے کیلئے یوم استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منایا۔اپنے بیان میں ناظم الامور قاسم عزیز نے یوم استحصال کشمیر کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی بربریت کو اجاگر کیا جس کے نتیجے میں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کئے گئے۔انہوں نے 5اگست 2019کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے تنازعہ جموں و کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے بین الاقوامی برادری کے فعال کردار کی ضرورت پر زور دیا۔
تہران میں بھی پاکستانی سفارت خانے نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں پاکستانی شہریوں، طلبا اور میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ممتاز ایرانی سکالرز ڈاکٹر قاسم صافی اور سمنہ خلف زادہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہر فورم پر کشمیر کاز کی حمایت کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر پاکستان اور اس کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا۔اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن عصمت حسن سیال نے کہا کہ ایرانی قیادت نے بھی کشمیر میں جدوجہد کو بہت اہمیت دی ہے اور متعدد بار عالمی برادری سے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹوکیو،جاپان میں پاکستانی سفارتخانے نے یوم استحصال کشمیرمنایا۔ اس موقع پر سفارتخانے نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کرنے کیلئے تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا۔جدہ میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں قونصل جنرل آف پاکستان خالد مجید،او آئی سی جدہ کے مستقل نمائندے سید فواد شیر، چیئرمین کشمیر کمیٹی جدہ مسعود احمد پوری اور جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیز کے چیئرمین انجینئر عارف مغل شامل تھے۔مقررین نے بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی، غیر اخلاقی اور یکطرفہ اقدامات کی مذمت کی اور کشمیری عوام کی جدوجہد کوخراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے کشمیر کاز کیلئے مثبت کردار کو سراہا اور تنازعہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل کے طور پر مختلف تجاویز پیش کیں۔ قونصلیٹ جنرل آف پاکستان دبئی نے 5اگست 2019کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی چھٹی برسی کے موقع پر یوم استحصال کشمیر منانے کیلئے تقریب کا انعقاد کیا۔تقریب میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے متعدد افراد نے شرکت کی۔دبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل حسین محمد نے یوم استحصال کشمیر کو جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت کی علامت کے طور پر منانے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر قانونی اقدامات نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔قونصل جنرل نے زور دے کر کہا کہ تنازعہ کشمیر کا واحداور پائیدار حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد میں مضمر ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کشمیریوں کی آزادی کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button