بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ مایوس کن ہے، امریکی وزیر خزانہ

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھارت اور یوروپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو "انتہائی مایوس کن” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ نے روس-یوکرین جنگ میں یوکرین کی حمایت کے بجائے تجارت کو ترجیح دی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یو رپ کو وہی کرنا چاہیے جو اس کے لیے بہتر ہو، لیکن یورپی لوگ اس معاہدے سے بہت مایوس ہیں کیونکہ وہ یوکرین روس جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت روس سے تیل خریدتا رہا ۔ آپ اس تجارتی معاہدے کے ذریعے اپنے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں اور آپ ایک ایسی چیز کو پسند کر رہے ہیں جو آپ کیلئے کسی طور موزون نہیں ہے۔
انہوںنے کہا کہ امریکہ نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر بھاری ٹیرف کی منظوری دی لیکن یورپی ہمارے ساتھ شامل ہونے کو تیار نہیں تھے اور اب یہ راز کھل گیا کہ وہ یہ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے تجارت کو یوکرائن کے لوگوں پر فوقیت دی۔
سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ حکمت عملی کے لحاظ سے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چونکہ صدر ٹرمپ نے گھریلو پیداوار کو ترجیح دی ہے اور بنیادی طور پر دیگر ممالک سے ہماری مارکیٹ تک رسائی کے لیے فیس لینا شروع کر دی ہے، یہ ممالک اپنی زائد پیداوار کے لیے دوسرے آو¿ٹ لیٹس تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یورپی یونین اس قدر تجارت پر منحصر ہے، اگر وہ اپنا تمام سامان ریاستہائے متحدہ بھیجنا جاری نہیں رکھ سکتے تو انہیں دوسرے آو¿ٹ لیٹس کی ضرورت ہے.







