مقبوضہ کشمیر سے متعلق تمام اہم فیصلے سرینگر میں نہیں، نئی دلی میں کئے جاتے ہیں ، عمر عبداللہ
سرینگر:
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی اور سلامتی سے متعلق تمام اہم فیصلے سرینگر میں نہیں، نئی دلی میں کیے جا رہے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے ایک قرارداد منظور کر کے بھارتی وزیر اعظم کو پیش کی تھی تاہم اس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔عمر عبداللہ نے جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد پر سماعت 10اکتوبر تک ملتوی کرنے کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پرسخت مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ی عوام کااپنے حقوق کی بحالی کیلئے انتظار پہلے ہی بہت طویل ہو چکاہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ مودی حکومت کوکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے ایک ٹائم فریم طے کرنے پر مجبور کرے گی ۔عمرعبداللہ نے واضح کیاکہ ریاستی حیثیت کی بحالی میں مزید تاخیر سے کشمیری عوام میںمزید مایوسی بڑھے گی ۔






