لاہور:بھارت کی جانب سے دریائوں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریائوں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جبکہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گردوارے میں داخل ہوگیا۔
کشمیرمیڈیاسرس کے مطابق دریائے راوی میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گردوارے میں داخل ہوگیا،پانی کے تیز بہائو کے باعث نارووال شکرگڑھ روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ٹریفک پولیس نے بتایا کہ دریائے راوی کا سیلابی پانی نارووال شکرگڑھ روڈ عبور کر گیا، کرتار پور بستان بھجنہ تک مین روڈ پر آگیا جس کے بعد نارووال شکرگڑھ روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔شکرگڑھ، کرتار پور دربار صاحب میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جس کے باعث یاتریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، گردوارے میں پانی داخل ہونے کے باعث یاتریوں کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جب کہ کرتار پور گردوارے کے احاطے میں 4.4فٹ پانی جمع ہے اور متعلقہ اداروں کی ریسکیو ٹیمیں آپریشن میں مصروف ہیں۔رپورٹ کے مطابق کرتار پور میں سیلاب کی وجہ سے دو سو سے تین سو لوگ پھنسے ہوئے ہیں، پاک فوج نے ان لوگوں کی ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کر دیا ہے۔مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر پاک فوج پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔







