مقبوضہ کشمیر: رکن اسمبلی معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے
احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے لاٹھی چارج اورآنسو گیس کے گولوں سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں کے علاقے ڈوڈا سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے معراج ملک کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں جبکہ قابض انتظامیہ نے علاقے میں انٹرنیٹ سروسز پر پابندی عائد کی دی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہزاوروں کی تعداد میں کشمیریوں نے گندوہ ، کہارا ، بھلیسہ اور ڈوڈہ کے دیگر علاقوں میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور منتخب نمائندے کی گرفتاری کو جمہوریت پر حملہ اور کشمیریوں کی آواز کو جبری طورپر خاموش کرانے کی مودی حکومت کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا۔مظاہرین نے معراج ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے قابض حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔بھارتی فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے لئے مختلف مقامات پر لاٹھی چارج اورآنسو گیس کے گولوں سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بہت سے مظاہرین کو گرفتار بھی کیاگیا۔ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اپنے حلقے کے دیرینہ مطالبات پر آواز بلند کرنے والے ایک ایم ایل اے کی گرفتاری سے ثابت ہو گیاہے کہ مقبوضہ علاقے میں کوئی جمہوریت نہیں ہے بلکہ بھارت طاقت کے وحشیانہ استعمال کے زیرجموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دے رہاہے ۔انہوں نے بی جے پی کی حمایت یافتہ قابض انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے اورمعراج ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ معراج ملک جو سینئر سیاسی رہنماء اور عام آدمی پارٹی کے مقبوضہ کشمیر کے صدر ہیں کو پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد پہلے کشتواڑ کی بھدروہ جیل اور بعد ازاں سخت سکیورٹی میں کٹھوعہ جیل منتقل کردیاہے۔ ڈوڈہ کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں ۔پولیس نے معراج ملک کے ساتھیوں بشمول اویس چوہدری اور شیخ ظفر اللہ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔عام آدمی پارٹی کے سربراہ ارویند رکجریوال اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اسدالدین اویسی اور دیگر نے بھی معراج ملک کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مودی حکومت کالے قانون پی ایس اے کے ذریعے منتخب نمائندوں کی آواز بند کرنا چاہتی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ،سینئر این سی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی ، سجاد لون، سلمان علی ساگراورپی ڈی پی رہنما وحید الرحمان پرہ اور میر فیاض نے اپنے الگ الگ بیانات میں کالے قانون کے تحت معراج ملک کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اس گرفتاری کو غیر منصفانہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ایک منتخب عوامی نمائندوں کو کالے قانون کے تحت جیل میں قید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنماء محمد یوسف تاریگامی ، کانگریس کے رہنما غلام احمد میراوراپنی پارٹی کے غلام حسن میر نے بھی معراج ملک کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے معراج کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ عوامی مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے پر ایک منتخب ایم ایل اے کی گرفتاری سے بھارتی جمہوریت کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے ۔





