بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے درخواستوں پر سماعت
سپریم کورٹ کی بھارتی حکومت کو اپناجواب پیش کرنے کیلئے چار ہفتوں کی مہلت

نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کے غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموںوکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کیلئے دائر درخواستوںکی سماعت کرتے ہوئے مودی حکومت کو اپنا جواب پیش کرنے کیلئے چار ہفتوں کی مہلت دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی کی بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں دفعہ 370 منسوخ کر کے جموںوکشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کردیاتھا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں درخواستوں پر سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچ کو بتایاکہ کشمیر کی ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے بھارتی حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے درمیان مشاورت جاری ہے۔درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ گوپال سنکرنارائنن اور میناکا گروسوامی نے عدالت کو بتایاکہ دسمبر2023میں بھارتی حکومت نے سپریم کور ٹ میں جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی یقین دہانی کرائی تھی۔انہوں نے عدالت سے درخواستوں کی سماعت کیلئے پانچ رکنی آئینی بنچ بنانے کی درخواست کی ۔ سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت کو درخواستوں پر جواب پیش کرنے کی مہلت دی اور مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔







