دہلی کا نام تبدیل کرنا ثقافتی احیا کی آڑ میں تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے:مورخین
نئی دہلی: مورخین، اسکالرز اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ہندو انتہاپسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کی طرف سے بھارتی دارالحکومت دہلی کا نام تبدیل کرکے” اندرا پرستھا”رکھنے کی تجویز پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ثقافتی احیا کی آڑ میں تاریخ کو مسخ کرنے اور فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وی ایچ پی نے دہلی کے وزیر ثقافت کو ایک باضابطہ تجویز پیش کی جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دہلی ریلوے اسٹیشن اور شاہجہان آباد ڈیولپمنٹ بورڈ جیسے اہم مقامات اوراداروں کا نام تبدیل کرے اور پانڈو دور کے ورثے کو تعلیم اور سیاحت کا حصہ بنائے۔تاہم مورخین کا کہنا ہے کہ دہلی کی تاریخی شناخت ہندو، مغل اور نوآبادیاتی اثرات کے امتزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہر کا نام تبدیل کرنے سے صدیوں پر محیط مشترکہ ورثہ ختم ہو جائے گا۔ دہلی یونیورسٹی کی ایک تاریخ دان ڈاکٹر اننیا شرما نے کہاکہ دہلی کا ارتقا ء کثیر پرتوں پر مشتمل ہے ۔اسے تبدیل کرنے سے اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت محدود ہوجائے گی۔شہری منصوبہ سازوں اور تعلیمی ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات تاریخی تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں اور ماضی کے بارے میں بھارت کے متعصبانہ نظریے کو فروغ دے سکتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ وی ایچ پی کی تجویز ایک وسیع تر ہندوتوا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد بھارت کی کثیر الثقافتی تاریخ کو ازسرنو تحریرکرنا، مسلم اور سیکولر وراثت کو مٹانا اور مخصوص نظریات پرملک کی شناخت کی تشکیل نو کرنا ہے۔







