کینیڈا:سکھ برادری کا بھارتی ظلم کے خلاف زبردست احتجاج، مودی حکومت کاجابرانہ رویہ بے نقاب کردیا
ٹورنٹو:
کینیڈا میں سکھ کمیونٹی نے بھارتی ریاستی دہشت گردی، سیاسی جبر اور بیرون ملک خفیہ ایجنسیوں کی کارروائیوں کے خلاف تاریخ ساز احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ ان مظاہروں سے نہ صرف کینیڈا بلکہ دنیا بھر میں مودی کی بھارتی حکومت کا جابرانہ رویہ بے نقاب ہو گیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ٹورنٹو، وینکوور، مونٹریال اور کیلگری سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں سکھوں نے سڑکوں پر نکل کر بھارت کے خلاف زبردست مظاہرے کیے۔ مظاہرین کاکہناتھاکہ مودی حکومت دنیا بھر میں سکھ رہنمائوں کے خلاف دہشت گردی، قتل اور جاسوسی کی مہم چلا رہی ہے تاکہ خالصتان تحریک کو کچلا جا سکے۔2023میں کینیڈا کے شہر سرے میں خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نِجار کے قتل کے بعدسے سکھوں کا غم و غصہ سیاسی طوفان کی شکل اختیار کر گیاہے ۔ کینیڈین انٹیلی جنس نے ہردیپ سنگھ کے قتل میں براہِ راست بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کی تھی اوربھارتی خفیہ نیٹ ورک کے ہاتھوں دیگر سکھ رہنمائوں کو نشانہ بنائے جانے کے شواہدبھی سامنے آئے ہیں۔سکھ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی کے تحت بھارت ایک جمہوری نہیں بلکہ دہشت گرد ریاست بن گیاہے جو اپنے مخالفین کو قتل، جھوٹے مقدمات اور میڈیا پراپیگنڈا کے ذریعے خاموش کرا رہا ہے۔ بھارت نے سکھوں کے جائز سیاسی مطالبات اور مذہبی آزادی کو طاقت کے زور پرکچلنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ادارے’ را’اور آئی بی کینیڈا میں خفیہ نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا مقصد سکھ آزادی پسندوں کو دھمکانا، انکی نگرانی کرنا اور حملے کرنا ہے۔ یہ نہ صرف کینیڈاکی خودمختاری بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے باعث مودی حکومت کو عالمی سطح پرکڑی تنقید اور تنہائی کا سامنا ہے۔کینیڈا نے بھارت سے تعلق رکھنے والے بشنوئی گینگ کو ایک دہشتگرد گروہ قرار دیا ہے جو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر بیرونِ ملک سکھ کارکنوں پر حملوں میں ملوث ہے۔ اس اقدام نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ بھارت اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ہندوتوا نظریے کے مظالم اب چھپ نہیں سکتے۔ دنیا بھر میں، خصوصا مغربی ممالک میں، سکھ، کشمیری اور دیگر مظلوم اقلیتیں بھارتی ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ کینیڈا میں مقیم سکھ برادری نے بھارتی مظالم کے خلاف اورانصاف، آزادی اور تحفظ کا مطالبے کے حق میں عالمی سطح پر اپنی مہم تیز کر دی ہے۔مودی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں اور ریاستی پشت پناہی میں چلنے والی قتل و دھمکی کی مہموں نے بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت ریاستی دہشت گردی برآمد کرنے کے ذریعے نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن گیا ہے۔کینیڈا میں سکھ برادری کا زبردست احتجاج صرف ایک ردِعمل نہیں بلکہ عالمی بیداری کی علامت ہے۔ مودی حکومت کا ہندوتوا پر مبنی جبر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے اور سکھ ڈائسپورا انصاف، خودمختاری اور انسانی وقار کی بحالی کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہے۔







