بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہاپسندی اور مسلم دشمنی میں خطرناک حد تک اضافہ
ہندو قوم پرست گروہ مسلمانوں کو "غدار" قرار دیکر نفرت کا زہر پھیلا رہے ہیں
نئی دلی:
بھارت میں ہندوتوا بی جے پی حکومت کے تحت ہندو انتہاپسندی اور مسلم مخالف اقدامات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ قوم پرست گروہ مسلسل مسلمانوں کو "غدار” قراردیکر انہیں ہراساں،ظلم و تشدد کانشانہ بنارہے ہیں جبکہ مساجد سمیت مسلمانوں کے مقدس مقامات کو منہدم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریاست اتر پردیش کی ہندوتوا بی جے پی حکومت نے ضلع سنبھل میں 30سال قدیم سنبھل مسجد کو غیر قانونی تعمیر قراردیکر منہدم کردیاہے۔یہ واقعہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بڑھتے ہوئے "بلڈوزر انصاف” مہم کا حصہ ہے۔ مدھیہ پردیش میں رواں سال جون میں 11مسلمانوں کے گھروں کو مبینہ بیف رکھنے کے الزام میں منہدم کیا گیا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے یوگی آدیتہ ناتھ کے بلڈوزر انصاف کو مسلمانوں کیلئے اجتماعی سزا اوراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیاہے۔بھارت میں ڈیجیٹل دنیا میں بھی مسلم دشمنی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے مطابق،مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی تصاویر میں مسلم خواتین کو "مال غنیمت” کے طور پر دکھایا گیا، جوسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور فیس بک پر بڑے پیمانے پروائرل کی جارہی ہیں۔ مئی 2023 سے رواں سال مئی تک 1,300سے زائد ایسی تصاویر کاتجزیہ کیاگیا ہے ۔ بھارت میں گزشتہ سال میں مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر میں 74فیصداضافہ ہواہے ۔ نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار165واقعات میں 98.5فیصدمسلمانوں کو نشانہ بنایاگیااوران میں سے 80فیصد واقعات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئے ۔بھارتی سیاستدان بھی کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ پراگیا سنگھ ٹھاکر نے بھوپال میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندو بیٹیوں کو "غیر ہندو” کے گھروں میں جانے سے روکیں اور اگر نافرمانی کریں تو "ان کے پائوں توڑ دو”۔ کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے ہندوتوا بی جے پی پر ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام لگایاہے۔بھارت میں ریاستی سرپرستی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ڈیجیٹل پروپیگنڈا اور سیاسی اشتعال انگیزی ایک منظم اور خطرناک سازش کا حصہ ہے ۔





