ماہرین کا بھارتی جوہری مواد کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اظہار تشویش، تحقیقات پر زور
اسلام آباد: ماہرین نے بھارت میں جوہری مواد مواد کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ملک میں ریگولیٹری فریم ورک کی کمزوری اور حساس تنصیبات میں کام کرنے والوں کی ملی بھگت کا غماز ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ماہرین نے کہاکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارت میں جوہری مواد کی چوری کے 25 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں اور مجموعی طور پر 200 کلو گرام سے زائد یورینیم اور دیگر مواد کی چوری ہوئی ۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح کی واقعات سے نظامی لاپرواہی اور حساس مواد کے بین الاقوامی بلیک مارکیٹ تک پہنچنے کے خطرناک امکان کا پتہ چلتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جھارکھنڈ کے ایک رہائشی کی حالیہ گرفتاری جسے بھارتی میڈیا نے پاکستان، ایران اور روس سے منسلک جاسوسی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر پیش کیا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی دہلی کس طرح اقلیتوں کو بدنام کرنے اور اپنی داخلی خامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے سیکیورٹی کی ناکامیوں کو سیاست کرتی ہے۔ ایسا خاص طور پر انتخابات یا فیٹف( FATF) کے جائزوں سے پہلے کیا جاتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کے اپنے جوہری ادارے، جیساکہ بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی) پر بار بار ہونے والی چوری اور جاسوسی کے واقعات، مجموعی بدانتظامی، کمزور نگرانی اور بین الاقوامی احتساب کی کمی کو نمایاں کرتے ہیں۔ بھارت کے اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کے پاس خود مختاری اور کافی حفاظتی میکانزم کا فقدان ہے، جس سے پھیلاو¿ کے سنگین خطرات لاحق ہیں،انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور اقوام متحدہ سے آزادانہ تحقیقات شروع کرنے پر زور دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت دوسرے ممالک پر جوہری جاسوسی کا الزام لگاتا ہے وہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے من گھڑت بیانیے کا استعمال کررہا ہے ۔ وہ ان ملکوں سے مسلسل تیل خرید رہا ہے جن پر پابندیاں عائد ہیں لیکن ساتھ ساتھ خود کومغربی طاقتوں کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کا مسلسل جوہری عدم تحفظ پاکستان کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ، مضبوط حفاظتی اقدامات اور ذمہ دار جوہری انتظام کے بالکل برعکس ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا کہ بھارت میں جوہری مواد کی چوری نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی جوہری استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو جوابدہ بنائے اور پھیلاو یا ممکنہ جوہری دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے اس کی جوہری تنصیبات کی شفاف بین الاقوامی نگرانی کو یقینی بنائے۔
بھارتی جوہری اور ریڈیو ایکٹیو میٹریل چوری کے مقدمات کی ایک جامع فہرست یہ ہے: • 1994: میگھالیہ پولیس نے ڈومیاسیٹ علاقے میں اسمگلروں سے 2.5 کلوگرام یورینیم ضبط کیا۔
* 1998: مغربی بنگال پولیس نے 100 کلوگرام سے زیادہ یورینیم لے جانے والے ایک حزب اختلاف کے ایک سیاستدان کو گرفتار کیا۔ سی بی آئی نے تمل ناڈو میں چوری کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا جس میں 8+ کلو گرام ضبط کیا گیا۔
* 2001: مغربی بنگال میں 200 گرام نیم پروسس شدہ یورینیم کے ساتھ کچھ لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔
* 2003میں ایک گروپ کو بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب 225 گرام ملڈ یورینیم کے ساتھ پکڑا گیا، جو دھماکہ خیز مواد کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
* 2006: مشرقی بھارت میں تحقیقی مرکز سے تابکار کنٹینر چوری ہوا۔
* 2008: بھارت نیپال سرحد کے قریب 4 کلو یورینیم ضبط کیا گیا۔ میگھالیہ میں یورینیم کی اسمگلنگ کے الزام میں کچھ لوگوںکو گرفتار کیا گیا۔
* 2009: جوہری ری ایکٹر کے ملازم نے مہاراشٹر میں تابکار آاسوٹوپس کے ساتھ ساتھیوں کو زہر دے دیا۔
* 2013: بائیں بازو کے گوریلا بموں میں بندھے یورینیم ایسک کے ساتھ پکڑے گئے۔
* 2016: مہاراشٹر کے تھانے میں 9 کلو گرام ختم شدہ یورینیم ضبط کیا گیا۔
* 2018: کولکتہ میں 1 کلو یورینیم اسمگلنگ ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا۔
* 2021: مہاراشٹر میں 7.1 کلو قدرتی یورینیم ضبط کرنے سمیت متعدد واقعات؛ جون 2021 میں 6.4 کلو گرام ضبط کیا گیا۔
* 2022: نیپال کے راستے اسمگل ہونے والا 2.5 کلو یورینیم پکڑی گئی۔ متعدد گرفتاریاں ہوئیں۔
* 2024: اگست، بہار میں 50 گرام کیلیفورنیم(انتہائی تابکار) ضبط گیا ۔۔






