مہاراشٹر:وقف ترمیمی قانون کیخلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے، 2ہزار افراد گرفتار

ممبئی: بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع جلگاﺅں میں رواں ہفتے ہزاروں مسلمانوں نے متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیے ۔ پولیس نے مظاہروں کے دوران 2ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے۔ مسلم تنظیموں نے اس قانون کو صریحاً ایک ”کالا قانون“ اور” مذہبی آزادی “پر براہ راست حملہ قرار دیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ مظاہرے ”تحفظ اوقاف کمیٹی“ کی طرف سے ”جیل بھرو تحریک“کے تحت کیے گئے جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے شروع کی گئی تحریک کا حصہ ہے۔ جلگاﺅں بھارت کا پہلا ضلع بن گیا جہاں بڑے پیمانے پر پر امن مظاہرے کیے گئے ۔
پولیس نے مظاہروں کے دوران 2ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جنہیں بعد ازاں رہا کیا گیا۔ احتجاج کے منتظم فاروق شیخ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہم نے رضا کارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کیا ، یہ تحریک صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ انصاف ، مساوات اور آئین پر یقین رکھنے والے ہر شہری کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جلگاﺅں نے قومی سطح پر یہ تحریک پرامن طور پر شروع کی ہے ، ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم اس غیر آئینی قانون کو کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے ۔
تحفظ وقف کمیٹی کے صدر مفتی خالد کی قیادت میں ایک وفد نے ایڈیشنل کلکٹر شریمنت ہرکر سے ملاقات کی اور بھارتی صدر کے نام ایک یادداشت انکے حوالے کی جس میں پانچ اہم مطالبات شامل تھے۔ وقف ترمیمی قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے، وقف جائیدادوںپر مرکزی حکومت کا کنٹرول ختم کیا جائے، مسلم برادری کے زیر انتظام آزاد اورشفاف وقف بورڈز قائم کیے جائیں، وقف اراضی پر قبضوں اور غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کیجائے، مساجد ، مدارس اور درگاہوں کی ای۔ رجسٹریشن کی آخرتاریخ(5نومبر) میں توسیع کی جائے۔







