نئی دلی: بھارت میں1984کے سکھوں کے خونریز قتل عام کے41سال بعد بھی اس سیاہ تاریخ کے سائے نام نہاد بھارتی جمہوریت پر منڈلا رہے ہیں۔ یہ واقعہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے وحشیانہ تشدد اور انصاف سے مسلسل انکار کی ایک دردناک یاد دہانی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1984کے سکھوں کے قتل عام کو41سال مکمل ہونے کے موقع پر انسانی حقوق کے کارکن ، قتل عام کے متاثرہ خاندان ، اور سیاسی رہنمائوں کی بڑی تعدادجنتر منتر نئی دلی میںاحتجاجی تقریب میں اکٹھے ہوئے ۔مقررین نے بھارتی ریاستی سرپرستی میں فرقہ وارانہ تشدد کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ اس واقعے میں 10ہزارسے زائد سکھوں کوقتل کیا گیا لیکن اعلی سطح کے ذمہ داران کوآج تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاسکا ہے ۔لوک راج سنگھتھن کے صدر ایس راگھون نے اس موقع پر کہاکہ یہ قتل عام نہیں تھا، بلکہ ریاستی سرپرستی میں سکھوں کی منظم طورپر نسل کشی تھی ۔ تقریب کا انعقاد لوک راج سنگھتھن اور اس کے اتحادی اداروں نے کیا۔ مختلف تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قتل عام ریاستی مشینری کی خاموش اور فعال حمایت سے کیا گیا۔اس موقع پردیگر مقررین نے کہا کہ 1984میں سکھوں کے خلاف جو کچھ ہوا وہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ ریاستی سرپرستی میں فرقہ وارانہ تشدد کا ایک تسلسل تھا، جو 2002میں گجرات، 2013میں مظفر نگر اور 2020میں نئی دہلی میں دہرایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت میں سیاسی قیادت کی تبدیلیوں کے باوجود بدعنوانی اور سزا سے بچنے کی ثقافت اب بھی قائم ہے۔جماعت اسلامی ہند کے محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ 1984میں سکھوں کے قتل عام سے لے کر آج مسلمانوں کے خلاف بدترین ظلم وتشدد کے واقعات جاری ہیں اور مجرموں کوسرکاری سرپرستی اورمکمل تحفظ حاصل ہے۔







