بھارت اور اسرائیل کے درمیان ہتھیاروں کی مشترکہ طور پر تیاری کیلئے معاہدہ

تل ابیب: بھارت اور اسرائیل نے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے اشتراک، مشترکہ ترقی اور جدید ہتھیاروں کے نظام اور ہارڈ ویئر کی مشترکہ پیداوار کے ذریعے دو طرفہ فوجی تعاون کووسعت دینا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر تل ابیب میں دفاعی تعاون پر ہندوستان-اسرائیل جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کے اجلاس کے بعد دستخط کیے گئے۔ معاہدے پر بھارتی کے دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور اسرائیل کی وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ریز) امیر بارم نے دستخط کئے۔
وزارت نے ایم او یو کو دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، دفاعی تحقیق، اختراع اور صنعتی شراکت جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایم او یو جدید ٹیکنالوجیز کا اشتراک ممکن بنائے گا اور مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کو فروغ دے گا۔
بھارت اسرائیلی دفاعی سازوسامان کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے، تل ابیب بھارت کو میزائل ، جدید ڈروں اور دیگر ہتھیار فراہم کرتا ہے ۔ دنوں ملک زیادہ تر لین دین کو خفیہ رکھ رہے ہیں۔
اس معاہدے پر دستخط اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر کے بھارت کے دورے کے موقع پر ہوئے۔ دونوں فریقین نے جاری دفاعی اقدامات کا جائزہ لیا اور مشترکہ منصوبوں میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آنے والے مہینوں میں بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں۔








