پاکستان دہشت گردی میں ملوث نہیں بلکہ اسکا بنیادی شکار ہے، امریکی رپورٹ

اسلام آباد :ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے بلکہ عالمی دہشت گردی کا بنیادی شکار ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ برس( 2025 ) 4ہزار سے زائد ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا جو کہ گزشتہ گیارہ سالوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی ایس کے پی، اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے چار تا چھ ہزار دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
امریکی ”کانگریشنل ریسرچ سروس“(سی آر ایس) رپورٹ میں دہشت گردی کے خطرات کی پانچ اقسام میں درجہ بندی کی گئی ہے: عالمی سطح پر مبنی، افغانستان پر مبنی، بھارت اور کشمیر پر مبنی، مقامی طور پر مبنی، اور فرقہ وارانہ۔ رپورٹ میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے اور پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو لاحق خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے بھارتی الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والے گروہوں کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔






