جموں خطے میں بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں میں تیزی،عام شہریوں کو طلب کر کے پوچھ گچھ کی جارہی ہے

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے مقامی لوگوں کو ہراساں کرنے کے لئے جموں خطے کے ڈوڈہ ، کٹھوعہ اورراجوری اضلاع میں تحریک آزادی کے ہمدردوں، سابق نظربندوں اور آزادی پسند کارکنوں کے اہلخانہ کے خلاف ایک اوربڑی کارروائی شروع کردی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پیراملٹری فورسز اورپولیس اہلکاروں نے ڈوڈہ اور کٹھوعہ اضلاع میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے اوردرجنوں افراد کو پاکستان یا آزاد جموں و کشمیر میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے مبینہ روابط پر پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا۔ایس ایس پی کٹھوعہ موہتا شرما نے اعتراف کیا کہ چھاپے بنیادی طور پر شہید نوجوانوں اور پاکستان یا آزاد جموں و کشمیر میں مقیم ان کے رشتہ داروں کے گھروں پر مرکوز تھے۔ انہوں نے کہاکہ متعدد افراد کو گرفتارکر لیا گیا اور موبائل سم فروشوں کی دکانوں کی تلاشی لی گئی۔ ایس ایس پی ڈوڈہ سندیپ مہتا نے کہا کہ یہ آپریشن سپورٹ نیٹ ورکس کو ٹریک کرنے کے لیے ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔قابض حکام اختلاف رائے کو دبانے اور مقامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے اکثر یہی جواز پیش کرتے ہیں۔اسی طرح کے چھاپے ضلع راجوری میں بھی مارے گئے جہاں بھارتی پولیس نے شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی۔ حکام نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے دوران ڈیجیٹل اور الیکٹرانک آلات کو ضبط کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام اور کشمیریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی بھارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔مبصرین کا کہناہے کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر اس طرح کی جابرانہ کارروائیاں ، گرفتاریاں، گھروں کی تلاشی اور عام شہریوں کی نگرانی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ایک معمول بن چکا ہے جو اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانے کی بھارتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔








