23 نومبر کو ریفرنڈم سے قبل اوٹاوا میں خالصتان کے حق میں بڑی کار ریلی

اوٹاوا: اوٹاوا میں23نومبر کو خالصتان ریفرنڈم سے قبل ایک بڑی کار ریلی نکالی گئی جس میں شریک سینکڑوں کاریں بھارتی ہائی کمشنر دنیش پٹنائک کی رہائش گاہ پہنچ گئیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریلی کے شرکاء نے سکھوں پر بھارتی جبر کے خلاف احتجاج کیا اور خالصتان ریفرنڈم میںبھرپور شرکت کا عزم ظاہرکیا۔ ریلی کا اہتمام سکھز فار جسٹس نے کیا تھا۔ ایس ایف جے کے رہنما گروپتونت سنگھ پنون نے تقریب کو پرامن اورووٹ پر مبنی جمہوری عمل قرار دیا۔ کینیڈین حکام نے اوٹاوا کے علاقے بلنگز اسٹیٹ میں 23نومبر کو ہونے والے ریفرنڈم کی منظوری دے دی ہے۔ ریفرنڈم کو سکھ برادری کی جمہوری خواہش کی نمائندگی یعنی” بیلٹ” اور بیرون ملک سکھ کارکنوں کے قتل کی بھارتی کارروائیوں” بلٹ” کے درمیان انتخاب قراردیاجارہا ہے۔ ایس ایف جے نے کہاہے کہ یہ ریفرنڈم گزشتہ مراحل کا تسلسل ہے اور مارچ 2025میں لاس اینجلس میں ہونے والے ریفرنڈم میں تقریبا 35,000 سکھوں نے حصہ لیاتھا۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ 26جنوری 2026کوبھارتی پنجاب میں ووٹر رجسٹریشن شروع ہو جائے گی۔گروپتونت سنگھ پنون نے جمہوری حقوق کا احترام کرنے، منتظمین کے ساتھ مسلسل روابط رکھنے، سیکورٹی خدشات کو دور کرنے اور ووٹنگ کے عمل کے لیے تایخی قومی مقام کے استعمال کی اجازت دینے پر کینیڈا کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔مبصرین کاکہنا ہے کہ ریلی کا بھارتی ہائی کمشنر کی رہائش گاہ تک علامتی مارچ کینیڈا میں سکھوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقریب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خالصتان ریفرنڈم تارکین وطن کے سافٹ پاور مہم میں تبدیل ہو رہا ہے جس میں سیاسی پیغام رسانی کو عوامی مظاہروں کے ساتھ جوڑ کر سکھوں کے حق خود ارادیت کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر لایا جا رہا ہے۔اوٹاوا ریلی جس میں بڑے پیمانے پرلوگوں نے شرکت کی ، ایک واضح پیغام ہے کہ خالصتان تحریک کو غیر ملکی سکھ برادریوں میں نمایاں حمایت حاصل ہے۔








