”رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز “ کی کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپے کی مذمت
انورادھا بھسین کے خلاف جھوٹا مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ

پیرس:صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ”رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز “نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں معروف انگریزی روز نامے ”کشمیر ٹائمز “ کے دفتر پر بھارتی تحقیقاتی دارے ”سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی“(ایس آئی اے )کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اخبار اور اسکی ایگزیکٹو ایڈیٹر پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز“ نے ایک بیان میں کہا کہ گرچہ جموں میں کشمیر ٹائمز کے ادارتی دفاتر چار سال سے بند ہیں، ایس آئی اے نے اسکے باوجود ان پر چھاپہ مارا اور پیشہ ورانہ ساز و سامان ضبط کیا۔ رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز خطے کے چند آزاد میڈیا اداروں میں سے ایک پر اس ناقابل قبول حملے کی مذمت کرتا ہے اور اخبار اور اس کے ایڈیٹر انچیف کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ایس آئی اے کی ٹیموں نے جمعرات کو صبح سویرے پولیس افسران ہمراہ سے جموں میں کشمیر ٹائمز دفتر کی تلاشی لی اور وہاں موجود دستاویزات اور کمپیوٹرز کو ضبط کر لیا، اس حقیقت کے باوجود کہ اخبار کے دفاتر 2021 سے استعمال سے باہر ہیں۔
ایس آئی اے نے مبینہ کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف ایک شکایت (ایف آئی آر) درج کرائی جو اس وقت بیرون ملک رہتی ہیں ۔ ایس آئی اے نے دعوی کیا کہ بھسین اور اور انکے اخبار نے ایسا مواد شیئر کیا ہے جس سے بھارت کی "خودمختاری اور سالمیت کو خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ کشمیر ٹائمز 1954 میں شروع کیا گیا تھا جسے خطے کے بارے میں معلومات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر جانا جاتا ہے – بھارتی حکام نے حالیہ برسوں میں اخبار کو کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ رہا ہے کیونکہ یہ جموں وکشمیر کے بارے میں بھارت کی جابرانہ پالیسی کا سخت ناقد ہے۔
رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر ٹائمز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے اور میڈیا آوٹ لیٹ اور اس کی ایگزیکٹوایڈیٹر کے خلاف جھوٹے الزامات کو ختم کریں۔





