خالصتان کی آزادی کے بعد رام مندر کی جگہ بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا : گرپتونت سنگھ

واشنگٹن : خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنون نے کہاہے کہ ہندوتوا بیانیہ بھارت میں اقلیتوں کیلئے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سکھز فارجسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنون نے ایک ویڈیو بیان میں کہاکہ مسلمان دشمنی میں مودی نے صدیوں پرانی مسجد کی شہادت کو قومی تماشہ اور سیاسی تہوار بنا دیاہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے جابر مودی کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ خالصتان کی آزادی کے بعد رام مندر کی جگہ بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا ۔ ویڈیو بیان میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ کا کہنا تھا کہ 25نومبر کو دہشت گرد مودی رام مندر میں انتہا پسند ہندوتوا کا جھنڈا لگا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کو بھارتی قبضے سے آزاد کرا کے خالصتان بنا کر رام مندر کی جگہ دوبارہ بابری مسجد بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان رام مندر میں دہشت گرد مودی کی جانب سے ہندوتوا کا جھنڈا بلند کرنے کا منصوبہ خاک میں ملا دیں اور25نومبر کو ایک بڑی انسانی زنجیر بنا کر ایودھیا پر قبضہ کر لیں۔گرپتونت سنگھ نے کہا اگر مسلمانوں نے بھارت میں زندہ رہنا ہے تو انہیں اپنے مذہب اور تاریخ کے دفاع کیلئے شہادتیں دینی پڑیں گی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کو نہ بلڈوزر سے بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہندوتوا کے جتھوں سے۔ رام مندر بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظریاتی دہشت گردی کے تحت بابری مسجد کی شہادت سے وجود میں آیا۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں نفرت، انتہا پسندی اور اقلیت دشمنی سفاک مودی کی متعصبانہ سوچ کی عکاس ہے۔






