” ایم اے پی آئی ایم “ کا بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم مخالف کارروائیوں پراظہار تشویش

کوالالمپور:” مجلس پیرونڈنگن پرتوبوہان اسلام ملیشیا “(ایم اے پی آئی ایم) نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم مخالف کارروائیوں پر شدید تشویش کاا ظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق” ایم اے پی آئی ایم “جسے ملائیشین کنسلٹیو کونسل آف اسلامک آرگنائزیشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سماجی انصاف، کمیونٹی ویلفیئر اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کرنے میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میںبھارت میں مسلمانوں کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جس میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، تشدد اور منظم امتیازی سلوک شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
بیان میںعوامی اجتماعات میں کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان تقاریر میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیکر انکا معاشی بائیکاٹ کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ” ایم اے پی آئی ایم “ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کیخلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم عالمی براری کی فوری توجہ کا متقاضی ہیں۔ بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر صورتحال کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس سے خطے میں طویل مدتی استحکام کو خطرہ پہنچنے کا احتمال ہے۔بیان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پر بھی زور دیا گیا کہ وہ بھارت میں نفرت انگیز جرائم اور امتیازی سلوک کا فوری نوٹس لے اور اس حوالے سے بھارتی حکام کو جواب دہ ٹھہرائے۔تنظیم نے اسلامی تعاون تنظیم اور ملائیشیا کی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ اور نفرت انگیز جرائم کی شفاف تحقیقات کیلئے دباﺅ ڈالیں۔KMS-06/M








