کل جماعتی حریت کانفرنس کا صوفی محمد اکبر کو ان کی38ویں برسی پرشاندار خراج عقیدت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے معروف آزادی پسند رہنما اور جموں و کشمیر محاذ آزادی کے بانی رکن صوفی محمد اکبر کو ان کی 38ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق صوفی محمد اکبر1987میں آج ہی کے دن مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے آبائی قصبے سوپور میں انتقال کر گئے تھے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ صوفی اکبر ایک بے لوث رہنما تھے جو اپنی آخری سانس تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کرتے رہے جس کا اقوام متحدہ نے مظلوم کشمیری عوام سے وعدہ کررکھا ہے۔ترجمان نے ان کے مشن کو منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا ۔ترجمان نے کہا کہ بھارت حق خودارادیت کے مطالبے کو دبانے کے لیے حریت رہنمائوں، صحافیوں، علمائے کرام، انسانی حقوق کے کارکنوں اور یہاں تک کہ عام نوجوانوں اور خواتین کو من گھڑت مقدمات میں پھنسا کرگرفتارکر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جان بوجھ کر حریت پسندکشمیریوں کی غیر قانونی نظر بندی کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت طول دے رہی ہے تاکہ انہیں اپنا سیاسی موقف ترک کرنے پر مجبور کیا جائے۔ قابض حکومت حریت قیادت کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کر کے انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے سیاسی حقوق سے مسلسل انکار جنوبی ایشیا میں امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوے کومسترد کرتے ہوئے کہاگیا کہ بھارتی حکومت نے علاقے کو ایک کھلی جیل میں کیوں تبدیل کررکھا ہے ؟جہاں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قانون کے تحت مسلسل محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔






