امریکی ارکان کانگریس کا بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کا مطالبہ
واشنگٹن : امریکہ میں کانگریس کے ری پبلکن رکن گلین گروتھمین ، امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی چیئرپرسن وکی ہرزلر اور نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے وزیرخارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تینوں رہنمائوں نے ا مریکی اخبار میں مشترکہ طور پر لکھے گئے مضمون میں کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں لوگوں کے مذہبی عقائد پر ظالمانہ ڈکٹیشن بدترین صورت اختیار کررہی ہے۔امریکی رہنمائوں نے لکھا کہ1928سے بھارت کی 12ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کیخلاف قوانین نافذ ہیں، تاہم حکام ان قوانین کو سیکڑوں لوگوں کی ناجائز گرفتاریوں کیلئے استعمال کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ مذہبی رہنما لوگوں کو مسیحیت یا اسلام قبول کرانے میں ملوث ہیں، بعض صورتوں میں مذہبی فسادات اور تشدد بھی سامنے آتا ہے۔امریکی رہنمائوں نے اس ضمن میں ریاست گوا کی مثال دی جہاں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ وہ ایسے قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں جن سے” love jihad”روکا جائے جبکہ یہ الفاظ ہندو قوم پرست سازشی نظریات پر مبنی ہیں کہ مسلمان مرد ہندو لڑکیوں کو شادی کے بہانے مسلمان بنانا چاہتے ہیں۔اسی طرح اتر پردیش میں مسیحی پادری اور اسکی بیوی پربے بنیاد الزام لگایا گیاکہ انہوں نے ہندو پڑوسیوں کو تعلیم اور غذا کے پروگرام کے بہانے مسیحیت قبول کرانے کی کوشش کی۔امریکی رہنمائوں نے کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی آزادی سلب کی جارہی ہے اور بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ مدھیہ پردیش میں تبدیلی مذہب پر سزائے موت تجویز کی جارہی ہے۔تینوں امریکی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ بھارت اپنا تعلق امریکہ سے مضبوط بنانا چاہتا ہے اس ضمن میں اینٹی کنورژن قوانین کا خاتمہ کرکے بھارت یہ ثابت کرسکتا ہے کہ وہ مشترکہ اقدام پر کاربند ہے۔






