بھارت :”سی بی سی آئی“ کا مسیحی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں پر اظہار تشویش

نئی دہلی:
کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا (سی بی سی آئی) نے کرسمس سے قبل بھارت بھر میں عیسائیوں پر حملوں میں تیزی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کمیونٹی کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی بی سی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کرسمس کی تقریبات کے دوران دعائیہ مجالس اور گرجا گھروں کو نشانہ بنائے جانے والے واقعات سے سخت غمزدہ ہیں، ایسے واقعات بھارت کی مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت اور بلا خوف عبادت کرنے کے حق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
سی بی سی آئی نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے اپیل کی کہ وہ قانون کے سخت نفاذ کو یقینی بنائیں اور مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کریں تاکہ وہ پرامن طریقے سے کرسمس منا سکیں۔ بیان میں حکومتوں پر زور دیا گیاکہ وہ نفرت اور تشدد پھیلانے والے افراد اور گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
انہوں نے ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے جبل پورسے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں بصارت سے محروم ایک مسیحی خاتون کو کرسمس کے ایک پروگرام میں بدسلوکی اور ہراسانی کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ خاتون کو انجو بھارگوا نامی ایک شخص نے نشانہ بنایا، جس کی شناخت بی جے پی کے نائب صدر کے طور پر کی گئی ہے۔ بشپس نے اس واقعے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوءانجو بھارگوا کو پارٹی سے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
بشپس نے ریاست چھتیس گڑھ میں چسپان ان پوسٹروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جن کے ذریعے عیسائیوں کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے مطالبات سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔
دریں اثنا یونائیٹڈ کرسچن فورم (یو سی ایف) نے کہا ہے کہ اس نے 2024 میں عیسائیوں کے خلاف تشدد کے 834 واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ فورم نے کہا کہ زیادہ تر حملے زبردستی مذہبی تبدیلی کے جھوٹے الزامات سے منسلک تھے جبکہ پولیس مجرموں کے خلاف کارروائی کے بجائے انکی پشت پناہی کر رہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ رواں برس دسمبر میں اب تک مسیحی برادری کو نشانہ بنائے جانے کے کئی واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات کیریلا، اڈیسہ، راجستھان وغیرہ میں پیش آئے ہیں۔






