ہندوانتہاپسندوں کوویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلمان طلباء کا میرٹ پربھی داخلہ قبول نہیں

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ہندو انتہاپسندوںنے جموں کے وشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلمان طلباء کے میرٹ پر داخلے کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کرتے ہوئے داخلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے اراکین نے جموں میں گورنر ہائوس کے باہراحتجاج کرتے ہوئے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کا پتلا بھی نذرآتش کردیا۔ مظاہرین نے ویشنو دیوی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اوروہ ”گو بیک، ایل جی، گو بیک” کے نعرے لگارہے تھے ۔ احتجاج کالج کے ایم بی بی ایس داخلوں میں مسلمان طلباء کی اکثریت منتخب ہونے کے خلاف کیاگیا۔مظاہرین نے کہاکہ حکام ہمارے صبر کا امتحان لے رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس میڈیکل کالج کو بند کیا جائے۔ اسے کٹرا میں کیوں رکھا گیا ہے؟ اسے کہیں اور منتقل کیا جائے۔پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ ہندو انتہاپسند تنظیمیں نئے قائم کردہ ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں میڈیکل سیٹوں کے انتخاب کے معیار میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔یہ تنازعہ 2025-26کے تعلیمی سیشن کے ایم بی بی ایس داخلوں سے پیدا ہوجہاں میرٹ پر منتخب ہونے والے 50طلباء میں سے 42کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔اگرچہ طلباء کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ہوا ہے اورمسلمان طلباء کالج کے مطلوبہ معیار پر پورے اترے ہیں لیکن ہندو انتہاپسندوں کو کالج میںمسلمانوں کا میرٹ پر بھی داخلہ قبول نہیں ہے







