مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 4ماہ کے دوران14کشمیریوں کو شہید کیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ 4ماہ کے دوران 14کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم سے کم 33شہری زخمی ہو گئے ۔ اس عرصے کے دوران، بھارتی فوج، راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں بشمول این آئی اے اور ریاستی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے 1028 سے زائد شہریوں کو گرفتار کیاجن میں کشمیری نوجوان، طلبا، کارکن اور خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے بیشتر لوگوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین لاگو کر دئے گئے ۔ اس عرصے کے دوران تلاشی اور محاصرے اور گھروں پر چھاپوں کی 900سے زائد کارروائیا ں بھی کی گئیں ۔بھارتی قابض انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی طرز کے جبر کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے گھروں ، دکانوں ، زرعی اراضی اور دیگر سمیت کشمیریوں کی 72جائیدادیں ضبط کر لیں ۔ یہ غیر قانونی ضبطیاں بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کا معاشی طور پر گلا گھونٹنے اور ان کے سیاسی موقف اور آزادی کی خواہشات کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ادھر بھارتی فورسز نے گزشتہ ماہ اپریل میں دو نوجوانوں کو شہید کیا،جن میں سے ایک کو جعلی مقابلے میں قتل کیاگیا۔ ضلع رام بن میں بھارتی قابض فورسز کی موجودگی میں ہندوتوا آر ایس ایس اور بی جے پی گروپوں ایک نوجوان اور ایک نوعمر لڑکی کو شہید کیا ۔ ان بہیمانہ قتل کا مقصد کشمیریوں کو خوفزدہ کرنا تھا ۔گزشتہ ماہ بھارتی قابض فورسز نے طلبا، نوجوانوں، کارکنوں اور خواتین سمیت کم سے کم 95 افراد کو گرفتار کیا ۔
دریں اثناکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر حمید فیاض، مشتاق الاسلام، بلال صدیقی، مولوی بشیر عثمانی، فیاض حسین جعفری، ظفر اکبر بٹ، ایڈووکیٹ زاہد علی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، رفیق احمد گنائی،خرم پرویزاوردرجنوں کشمیری خواتین سمیت تین ہزار سے زائد حریت رہنما، کارکن، نوجوان، طلبا، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں مسلسل غیر قانونی طورپر قید ہیں ۔ بی جے پی کی ہندوتوا حکومت آزادی کا مطالبہ کرنے پر ان کشمیری نظربندوںکو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنار ہی ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button