بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے اب جین برادری کواپنا نشانہ بنایا
پولیس کااحتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال

نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے مذہبی اقلیتوں کی توہین اورانہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین واقعے میں ریاست مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں جین برادری کو نشانہ بنایاگیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ کوتوالی تھانے کی حدود میں کمانیہ گیٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں ایک معروف مٹھائی کی دکان پر معمولی تنازعہ فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔ ایک مقامی تاجر راج کمار جین نے بتایا کی کہ کھانے کے معیار پر بحث کے دوران دکان کے عملے نے جین برادری کے خلاف قابل اعتراض اور توہین آمیزباتیں کیں جس سے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔صورت حال اس وقت بگڑ گئی جب مبینہ توہین کی خبرعلاقے میں پھیل گئی اور جین برادری کے سینکڑوں افراد دکان کے باہر جمع ہو گئے، نعرے لگائے اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کمیونٹی کے ارکان نے بتایا کہ احتجاج پرامن تھا لیکن پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیاجس سے بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔پولیس حکام نے بعد میں تصدیق کی کہ جین کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی اور تین افراد کو گرفتارکیاگیا جبکہ دکان کے مالک اور دو دیگر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیاہے۔ حکام نے دعوی کیا کہ کشیدگی کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال ضروری تھا۔ جین رہنمائوں نے لاٹھی چارج کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یک طرفہ کارروائی اور طاقت کا غیرضروری استعمال قرار دیا۔یہ واقعہ بھارت میں عدم برداشت کے ایک خطرناک اور بڑھتے ہوئے رحجان کی عکاسی کرتا ہے جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کو طویل عرصے سے ریاستی سرپرستی میں ہجومی تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اب جین برادری بھی خود کو کمزور محسوس کر رہی ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں کاکہناہے کہ استثنیٰ کا بڑھتا ہوا کلچراورطاقت کا وحشیانہ استعمال بھارت کے سیکولر تانے بانے کو تباہ اور مذہبی اقلیتوں میں خوف ودہشت پیداکر رہا ہے۔






