سابق ”را” سربراہ کا بیان پاکستان کیساتھ جارحانہ بھارتی رویے کا عکاس ہے، ماہرین

نئی دلی :خفیہ بھارتی ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس وِنگ(را)کے سابق سربراہ وکرم سود نے کھلے عام کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے ساتھ امن ”ممکن نہیں”۔ماہرین انکے اس بیان کو نئی دہلی کی اس دیرینہ ذہنیت کا عکاس قرار دیتے ہیں جس کے تحت بھارت 1947 سے آج تک عملی اور پالیسی سطح پر پاکستان کی خودمختار حیثیت تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وکرم سود نے بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں منعقدہ لٹریچر فیسٹیول سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ گفتگو یا سمجھوتہ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اسلام آباد اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہ لائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو ”اسٹریٹجک طاقت اور خود انحصاری”پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سود کا بیان واضح طور پر اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن بھارت کا مقصد نہیں، بلکہ نئی دہلی نے آج تک پاکستان کی خودمختار ریاستی حیثیت دل سے قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات بھارت کی جارحانہ سوچ اور بامعنی مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دینے کے رجحان کو بے نقاب کرتے ہیں۔وکرم سود نے یہ بھی کہا کہ امریکہ 1940 کی دہائی کے بعد سے روایتی جنگیں براہِ راست نہیں جیت سکا، جبکہ چین اقتصادی اور صنعتی طاقت کے ذریعے واشنگٹن کو چیلنج کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو بڑی طاقتوں کے ساتھ ”واقعاتی و منطقی انداز”میں تعلقات استوار کرنے چاہئیں، نہ کہ بیرونی مدد پر انحصار کرنا چاہیے۔






