خصوصی رپورٹ

مسئلہ کشمیر کے حل میں واحد رکاوٹ بھارتی ہٹ دھرمی ، غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل

اسلام آباد:
مسئلہ کشمیر کے حل میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ بھارتی وعدہ خلافیوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کو فوجی طاقت کے بل پر اپنے ساتھ رکھنے کی اسکی مذموم پالیسی کے باعث نہ صرف کشمیری شدید مصائب و مشکلات سے دوچار ہیں بلکہ اس پورے خطے میں مسلسل ایک بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت خود تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا جس نے اس مسئلے کے حل کے لیے کئی قرار دادیں پاس کیں ۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی پاس کردہ تسلیم کیں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا بھی وعدہ کیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا۔
78 سال بیت گئے بھارت جموں وکشمیر کو طاقت کے بل پر اپنے ساتھ رکھنے کی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہے اور وہ آزادی اور حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنارہا ہے، اس نے 1947سے اب تک چار لاکھ سے زائد کشمیری شہید جبکہ ہزاروں لاپتہ کیے ہیں۔ بھارت کی ہندو توا بی جے پی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں پر ایک اور سنگین وار کیا۔ بی جے پی حکومت علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس نے اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں، بھارتی ہٹ دھرمی اور جارحیت کی وجہ سے نہتے کشمیریوں کا خون مسلسل بہہ رہا ہے۔بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ رویے نے کشمیر کو ایٹمی فلیش پوائنٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔
عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرے اور نہتے کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاصہ کرے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button