خصوصی رپورٹ

ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کا 27واں یوم شہادت۔ایک رپورٹ

 

تحریر۔ محمد شہباز

images (9)سرزمین کشمیرکے فرزند، وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار جلیل احمد اندرابی کا 27واں یوم شہادت اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا جارہا ہے،کہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ،ناجائز،غیر قانونی اورغیر اخلاقی قبضے کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ 26برس قبل 27 مارچ کومقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکردہ وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار جلیل احمد اندرابی کی گرفتاری کے چند دن بعد ان کی تشدد زدہ اور زخموں سے چور لاش دریائے جہلم میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ جلیل اندرابی کو بھارتی فوج کے بدنام زمانہ میجر اوتار سنگھ نے 08 مارچ 1996 کو سری نگر سے اغوا کیا اور پھردوران حراست تشدد کرکے انہیں شہید کیا۔ ایڈوکیٹ جلیل احمد اندرابی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوںکے خلاف آواز اٹھانے اور انہیں دستاویزی شکل دینے کی پاداش میں شہید کیا گیا تھا۔ اپنی شہادت سے پہلے تک، جلیل اندرابی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم کے خلاف موثر آواز بن کر کھڑے رہے ۔وہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ جموں وکشمیر میںبھارتی مظالم اور سفاکیت کو بے نقاب کرچکے تھے،اور 08 مارچ 1996ء میں ان کے اغوا سے قبل انہیں دوبارہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی،لیکن شرکت سے قبل ہی انہیں بھارتی فوج کی35راشٹریہ رالفلز کے سفاک میجر اوتار سنگھ نے اغوا کرنے کے بعد دوراں حراست شہید کیا تھا۔میجر اوتار سنگھ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے بجائے کینڈا فرار کرایا گیا،جہاں سے وہ امریکہ فرار ہوگیا تھا،اور پھر 9جون 2012ء میں میجر اوتار سنگھ نے پہلے اپنی بیوی اور تین بچوں کو ہلاک کرنے بعد خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں سے کیا،جس سے خدائی انصاف کہا جاتا ہے۔شہید جلیل اندرابی کے اہل خانہ 26 برس گزرنے کے بعد بھی انصاف سے محروم ہیں۔ جلیل احمد اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اپنی جان قربان کی۔ جلیل اندرابی اور دیگر لاکھوں کشمیریوں کی شہادت اہل کشمیریوں کی یادوں میں نقش ہیں۔کشمیری عوام جلیل اندرابی جیسے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔جلیل احمد اندرابی کو عالمی سطح پر شہید انصاف کا لقب بھی دیا جاچکا ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d