سونم وانگچک کے خلاف این ایس اے کیس میں مودی حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، اہلیہ

نئی دہلی: لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے کہا ہے کہ مودی حکومت ان کے شوہر کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کیس میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے، جبکہ نظر بندی کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک انٹرویو میں گیتانجلی آنگمو نے سونم وانگچک کی نظر بندی کے خلاف موثر مزاحمت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال بھارت میں جمہوریت کی بگڑتی ہوئی حالت کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا”مودی حکومت طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو غیرقانونی طور پر نظر بند کر رہی ہے۔ اگر یہ سونم وانگچک کے ساتھ ہو سکتا ہے تو یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔”واضح رہے کہ معروف ماحولیاتی کارکن اور ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک کو لداخ میں احتجاجی مظاہروں کے بعد 26 ستمبر کو این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
گیتانجلی آنگمو نے الزام لگایا کہ بھارتی انتظامیہ نے قانونی طریقہ کار کو نہ اپنا کر قیدیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ نظر بندی کی وجوہات فراہم نہ کرنا بھی ان خلاف ورزیوں میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت مسلسل عدالت سے سماعت کی تاریخیں موخر کروا رہی ہے اور یہ سب تاخیری حربوں کا حصہ ہے۔
گیتانجلی آنگمو نے کہا کہ ہم خاموش رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور عوام سے اس غیرانصافی کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کی اپیل کی





