مودی حکومت کا ہندو توا ایجنڈا بے نقاب: اب غیر ہندو شہری مندروں میں داخل نہیں ہو سکیں گے

نئی دہلی:مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اپنے شدت پسند ہندو توا ایجنڈے کو عملی شکل دیتے ہوئے اتراکھنڈ میں غیر ہندو شہریوں کو بڑے ہندو مندروں میں داخلے سے روکنے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں بدرناتھ، کیدارناتھ اور گنگوتری جیسے اہم مذہبی مقامات شامل ہیں۔ یہ اقدام بھارت میں مذہبی امتیاز اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بدرناتھ کیدارناتھ ٹیمپل کمیٹی کے حکام نے بتایا کہ غیر ہندوؤں کو مندروں میں داخلے سے روکنے کی یہ تجویز اس ہفتے کے آخر تک رسمی طور پر منظور ہونے کا امکان ہے۔ مندروں کی کمیٹیوں اور بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی حمایت کے ساتھ یہ اقدام حکمران جماعت کے ہندو توا ایجنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔بدرناتھ کیدارناتھ ٹیمپل کمیٹی کے چیئرمین ہیمانت دْویویدی نے کہا کہ اس معاملے پر سنتوں، پجاریوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے اور اس پابندی کو مذہبی روایت اور آئینی شقوں کی مخصوص تشریح سے جائز قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی بورڈ میٹنگ میں منظوری کے بعد یہ قاعدہ نافذ العمل ہو جائے گا۔ادھر گنگوتری ٹیمپل کمیٹی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ گنگوتری دھام میں غیر ہندو شہریوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا، جبکہ ہریدوار میں مذہبی تنظیموں نے بڑے گنگا گھاٹ کو بھی ”غیر ہندو ممنوع علاقہ” قرار دینے کی درخواستیں دی ہیں، خاص طور پر آنے والے کمبھ میلے کے پیشِ نظر۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات کھلے طور پر مذہبی امتیاز کو ریاستی سطح پر جائز قرار دیتے ہیں اور بھارت کے سیکولر ہونے کے دعووں کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے خبردار کیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر پابندیوں کو معمول بنانے سے ملک میں اقلیتیں مزید پسماندہ ہوں گی اور شدت پسند عناصر کو پورے بھارت میں بے خوف کارروائی کرنے کی ہمت ملے گی۔
اس پیش رفت پر بھارت کی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فرقہ وارانہ تقسیم کا استعمال کر کے حکمرانی کی ناکامیوں اور عوامی مشکلات سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ ہریش راوت نے کہا کہ ایسے پابندیوں کے بار بار اعلان کا مقصد عوام کو الجھانا اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔







