مقبوضہ جموں و کشمیر

اگست 2019 سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ریاستی دہشت گردی بڑھ گئی : رپورٹ

بھارتی فوجیوں نے22 خواتین، 45 بچوں سمیت 1050 کشمیریوں کو شہید کیا

سرینگر: بی جے پی حکومت کی طرف سے5 اگست 2019 کو بندوق کی نوک پر دفعہ 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج،پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور دیگر فورسزنے اس عرصے کے دوران22 خواتین اور 45 بچوں سمیت 1050 کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے287کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیاگیا۔ ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ اور غلام محمد بٹ بھی اس عرصے کے دوران بھارتی حراست میں انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 2660 افراد زخمی ہوئے جبکہ حریت رہنماو¿ں، کارکنوں، طلباء، صحافیوں، علمائے دین اور انسانی حقوق کے محافظوں سمیت 33141 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ زیادہ تر گرفتار نوجوانوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے 1,168 رہائشی مکانات اور دیگر عمارتوں کو تباہ کیا اور 139 خواتین کی بے حرمتی کی۔رپورٹ میں کہاگیا کہ 05 اگست 2019 سے ہلاکتیں 2011، 2012، 2013، 2014، 2015 اور 2019 میں ریکارڈ کی گئی ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس غیر قانونی اقدام سے کشمیریوں کی زندگی معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بدحال ہو گئی ہے جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے گزشتہ ماہ جنوری میں دو کشمیریوں کو شہید اور 62 کو گرفتار کیا۔نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے زیر کنٹرول مقبوضہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے جنوری میں ایک درجن سے زیادہ کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرلیں جن میں مکانات اور زمینیں شامل ہیں۔ بی جے پی حکومت کی کشمیر دشمن پالیسیوں کے تحت چھ کشمیری مسلم ملازمین کو ان کی سرکاری ملازمتوں سے معطل کر دیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے سرینگر میں ایک اجلاس میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتوا حکومت کی طرف سے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاںخطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں جن میں قتل وغارت، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریاں، تشدد اور املاک کی ضبطی شامل ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ اجلاس میں تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا گیا تاکہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے اپنی منصفانہ جدوجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button