سونم وانگچک کی نظربندی کیخلاف دائر درخواست کی سماعت 9 فروری تک ملتوی

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی جانب سے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت وانگچک کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ وانگچک راجستھان کے جودھپور جیل میں گزشتہ پانچ ماہ سے نظر بند ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سونم وانگچک کو 26 ستمبر 2025 کوکالے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔انہیں لہہ میں پرامن مظاہرین پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چارافراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے دو دن بعد گرفتار کیاگیاتھا۔ مظاہرین لداخ کے لیے ریاست کے درجے اور بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سینئر وکیل ایڈووکیٹ کپل سبل نے سونم وانگچک کی طرف سے عدالت کو بتایاکہ لہہ میں 24 ستمبر کو ہونے والے افسوسناک واقعات کوکسی بھی طرح سونم وانگچک کے بیانات یاتقاریر سے نہیں جوڑا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ پولیس عدالت کو گمراہ کرنے کیلئے منتخب ویڈیوز اور مواد پر انحصار کرر ہی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ان کے موکل کی حراست غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔وہ گزشتہ تین سال سے لداخ میں ماحولیاتی اور تعلیمی شعبے کیلئے خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا اعتراف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیاجاچکا ہے








