مقبوضہ جموں وکشمیر :میڈیا پرپابندیوں کی مذمت

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں سیاسی رہنماو¿ں نے میڈیا پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلاجواز اور آزادی صحافت پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے میڈیا پر پابندیوں کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب لوگ ایران کے ساتھ یکجہتی کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں، مودی حکومت کا میڈیا پلیٹ فارمز کو سنسر کرنے کا فیصلہ انتہائی پریشان کن اور افسوس ناک ہے۔
انہوں نے پابندیوں کو فوری طور پر واپس لینے اور پریس کی آزادی اور جمہوری حقوق کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی زور دیا کہ وہ کسی دباﺅ میں آئے بغیر لوگوں کو اپنے جذبات کا اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ترجما ن نے بھی ایک بیان میں، میڈیا آو¿ٹ لیٹس کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو سنسر کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نازک وقت میں رپورٹنگ پر پابندی افسوسناک اور جمہوریت کے منافی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ پریس کو خاموش کرنا کوئی حل نہیں، حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پراپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ۔
رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے گریٹر کشمیر، کشمیر لائف اور رائزنگ کشمیر سمیت معروف اخبارات اور نیوز پورٹلز کے فیس بک اور انسٹاگرام ہینڈلز کو بلاک کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اکاو¿نٹس بحال کریں۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بھی میڈیا آﺅٹ لیٹس پرپابندی کو افسوسناک اور بلاجواز قرار دیا۔





