پاکستان کی خارجہ پالیسی اسٹریٹجک توازن اور قومی خوداعتمادی پر مبنی ہونی چاہیے: مسعود خان
اسلام آباد:
آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اسٹریٹجک توازن، قومی خوداعتمادی اور پیچیدہ عالمی صف بندیوں کے تناظر میں موثر ادارہ جاتی سفارت کاری کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسعود خان نے اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کے ارتقا، ان کے مستقبل اور پاکستان کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی پر ان کے اثرات پر تفصیلی لیکچر دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 1947میں ایک آزادملک کے طورپر دنیا کے نقشے پر بھرا جسے وسائل کی کمی اورمتعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ ان حالات میں پاکستان نے اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک شراکت داروں کی تلاش کی، جس کے نتیجے میں سرد جنگ کے ابتدائی دور میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے۔مسعود خان نے کہا کہ اس ابتدائی شراکت داری کے نتیجے میں پاکستان کو فوجی تربیت، مسلح افواج کو جدیدخطوط پر استوا ر کرنے اور اقتصادی تعاون جیسے فوائد حاصل ہوئے۔ تاہم انہوں نے واضح کیاکہ توقعات میں فرق، خصوصا مسئلہ کشمیر پر حمایت کے حوالے سے، بعد کی دہائیوں میں تعلقات میں تنائو کا باعث بنا۔سردار مسعودخان نے کہا کہ 1965اور 1971کی پاک بھارت جنگیں، جوہری پھیلائو کے خدشات اور مختلف پابندیوں نے دوطرفہ تعلقات کو متاثر کیا، تاہم 1980کی دہائی میں افغانستان پر سوویت حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعاون دوبارہ بڑھا۔انہوں نے11ستمبر 2001کے حملوں کے بعد کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں فرنٹ لائن پارٹنر بن گیا اور افغانستان میں بین الاقوامی فوجی کارروائیوں کے لیے لاجسٹک تعاون فراہم کیا۔ اس کے باوجود باہمی بداعتمادی اور پالیسی اختلافات وقتا فوقتا تعلقات میں کشیدگی کا سبب بنتے رہے۔انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاست پاکستان سے متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کے مطابق جہاں امریکہ ایک اہم عالمی طاقت ہے، وہیں پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی مزید مضبوط کرنا چاہیے، جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تعاون اور مشترکہ دفاعی پیداوار جیسے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے متوازن اور خوداعتماد خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔






